الیکشن کمیشن نے مانسہرہ سمیت خیبر پختونخوا کے 7 اضلاع میں نئی حلقہ بندیوں کا شیڈول جاری کر دیا
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختونخوا کے سات اضلاع میں ویلج اور نیبرہڈ کونسلوں کی نئی حلقہ بندیوں (Delimitation) کا باقاعدہ شیڈول جاری کر دیا ہے۔ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ضلع مانسہرہ، خیبر، کرم، ملاکنڈ، شانگلہ، اپر چترال اور باجوڑ میں بلدیاتی اداروں کی حدود اور وارڈز کی ازسرِ نو تشکیل کا عمل شروع کیا جا رہا ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ حلقہ بندیوں کا یہ عمل آئین پاکستان، الیکشن ایکٹ 2017، الیکشن رولز 2017 اور خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت انجام دیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے باقاعدہ شیڈول جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق ابتدائی انتظامات 22 جولائی سے 27 جولائی 2026 تک مکمل کیے جائیں گے۔
شیڈول کے مطابق 28 جولائی سے 28 اگست 2026 تک حلقہ بندی کمیٹیاں ویلج اور نیبرہڈ کونسلوں کی ابتدائی فہرستیں تیار کریں گی۔ بعد ازاں 29 اگست کو یہ ابتدائی فہرست عوام کے لیے جاری کی جائے گی تاکہ شہری مجوزہ حدود اور وارڈز کا جائزہ لے سکیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق اگر کسی شہری، گاؤں یا علاقے کو حلقہ بندیوں پر اعتراض ہو تو وہ 31 اگست سے 18 ستمبر 2026 تک اپنے اعتراضات متعلقہ حکام کے پاس جمع کرا سکے گا۔ الیکشن کمیشن کی ڈیلیمیٹیشن اتھارٹیز ان اعتراضات کا جائزہ لے کر 5 اکتوبر 2026 تک فیصلے جاری کریں گی جبکہ ان فیصلوں سے متعلق رپورٹ 12 اکتوبر 2026 تک حلقہ بندی کمیٹیوں کو ارسال کر دی جائے گی۔
شیڈول کے مطابق 17 اکتوبر 2026 کو ویلج اور نیبرہڈ کونسلوں کی حتمی حلقہ بندیوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا جس کے بعد نئی حدود آئندہ بلدیاتی انتخابات کے لیے نافذ العمل ہوں گی۔
سیاسی اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ضلع مانسہرہ سمیت دیگر اضلاع میں نئی حلقہ بندیوں سے کئی ویلج کونسلوں اور وارڈز کی حدود میں تبدیلی متوقع ہے۔ بعض علاقوں کو نئی کونسلوں میں شامل کیا جا سکتا ہے جبکہ آبادی کے تناسب کے مطابق نئی نشستوں اور وارڈز کا تعین بھی کیا جائے گا۔
مبصرین کے مطابق حلقہ بندیوں کے عمل کا آغاز اس بات کا اشارہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں نے عملی شکل اختیار کر لی ہے اور حتمی حلقہ بندیوں کے بعد الیکشن شیڈول جاری ہونے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔
الیکشن کمیشن نے عوام، سیاسی جماعتوں اور مقامی نمائندوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری ہونے کے بعد اس کا بغور جائزہ لیں اور کسی بھی اعتراض یا تجویز کو مقررہ مدت کے اندر جمع کروائیں تاکہ شفاف اور منصفانہ بلدیاتی نظام کی تشکیل ممکن بنائی جا سکے۔
مانسہرہ سمیت دیگر اضلاع میں نئی حلقہ بندیوں کے باعث متعدد ویلج اور نیبرہڈ کونسلوں کی حدود میں رد و بدل متوقع ہے۔ بعض دیہات کو نئی کونسلوں میں شامل کیا جا سکتا ہے جبکہ آبادی کے تناسب کے مطابق وارڈز اور نشستوں کی تقسیم بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔ اس لیے عوام، سیاسی جماعتوں اور مقامی نمائندوں کے لیے ضروری ہوگا کہ ابتدائی فہرست جاری ہونے کے بعد اس کا تفصیلی جائزہ لیں اور اگر کسی قسم کا اعتراض یا تجویز ہو تو مقررہ مدت کے اندر الیکشن کمیشن کے پاس جمع کروائیں۔
مبصرین کے مطابق حلقہ بندیوں کا یہ عمل خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ 17 اکتوبر 2026 کو حتمی حلقہ بندیوں کی اشاعت کے بعد آئندہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی راہ مزید ہموار ہو جائے گی، کیونکہ نئی حلقہ بندیاں ہی انتخابات کے انعقاد کی بنیادی شرط ہوتی ہیں۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ حلقہ بندیوں کا مقصد آبادی کے تناسب کو مدنظر رکھتے ہوئے منصفانہ نمائندگی کو یقینی بنانا اور بلدیاتی اداروں کو زیادہ مؤثر بنانا ہے، تاکہ شہریوں کو مقامی سطح پر بہتر نمائندگی اور سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
