بالاکوٹ (نمائندہ خصوصی) بالاکوٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر کام کی طویل بندش نے سینکڑوں محنت کشوں کو شدید مالی مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ سے دو ماہ سے جاری اس تعطل کے باعث مزدور طبقہ بے روزگاری کا شکار ہو کر فاقہ کشی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق، اس منصوبے سے وابستہ مزدور روزانہ کی بنیاد پر اپنی مزدوری سے گھروں کا چولہا جلاتے تھے، مگر کام رکنے کے بعد ان کے لیے آمدن کا واحد ذریعہ بھی ختم ہو گیا ہے۔ مہنگائی کے موجودہ بدترین دور میں جب اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، ایسے میں روزگار کا چھن جانا مزدوروں کے لیے ایک بڑے امتحان سے کم نہیں۔
متاثرہ مزدوروں کا کہنا ہے کہ وہ ہر روز اس امید کے ساتھ پراجیکٹ سائٹ کا رخ کرتے ہیں کہ شاید آج کام دوبارہ شروع ہو جائے، مگر مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ کئی مزدور ایسے بھی ہیں جو دور دراز علاقوں سے یہاں کام کے لیے آئے تھے، اب نہ وہ واپس جانے کے قابل ہیں اور نہ ہی بغیر آمدن کے اپنے خاندان کی کفالت کر پا رہے ہیں۔
مزدوروں کی ساری امیدیں اسی پراجیکٹ سے وابستہ تھیں، لیکن کام بند ہونے سے گھروں میں فاقوں کی نوبت آ گئی ہے۔ حکومت اور متعلقہ ادارے لیبرز کی حالت پر رحم کریں اور جلد از جلد کام بحال کریں۔
ماہرین کے مطابق، ترقیاتی منصوبوں کی بندش نہ صرف مقامی معیشت کو متاثر کرتی ہے بلکہ اس سے جڑے سینکڑوں خاندانوں کا مستقبل بھی غیر یقینی ہو جاتا ہے۔ بالاکوٹ جیسے علاقوں میں جہاں روزگار کے مواقع محدود ہیں، ایسے منصوبے ہی عوام کے لیے سہارا بنتے ہیں۔
مزدوروں نے حکومت، متعلقہ محکموں اور پراجیکٹ انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے اور کام کی جلد بحالی کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ وہ دوبارہ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے قابل ہو سکیں۔
کیا متعلقہ ادارے ان محنت کشوں کی فریاد سنیں گے، یا یہ مزدور یونہی بے بسی کے عالم میں انتظار کرتے رہیں گے؟
