آج کل دینی و فکری حلقوں میں ایک نئی بحث زوروں پر ہے۔ ہر فرد اپنی اپنی ترجیحات اور نظریاتی ترجیحات کے تناظر میں تبصرہ کر رہا ہے۔ یہ تنوع فطری ہے، اور کسی بھی مہذب معاشرے میں تنقیدی سوچ کا وجود اس معاشرے کی فکری بالیدگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ مگر افسوس کہ اس فکری تنوع نے بعض جگہوں پر شدت، الزام تراشی اور بدتمیزی کی صورت اختیار کر لی ہے، جو نہ صرف دینی آداب کے منافی ہے بلکہ امت کے اتحاد کے لیے بھی ضرررساں ہے۔
ہر شخص کی اپنی ترجیحات ہو سکتی ہیں، اور ہر فرد کو اپنے فہم، پس منظر اور تجربات کی بنیاد پر کسی فرد یا جماعت کو ترجیح دینے کا حق ہے۔ اس بنیاد پر شکوے شکایت یا الزام تراشی کرنا غیر مناسب ہے۔ اس لیے ادب و احترام کا دامن تھامے رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
مثال کے طور پر، مولانا طارق جمیل صاحب نے دینِ اسلام کی تبلیغ و ترویج کے سلسلے میں خاص طور پر ایک مخصوص طبقے میں جو کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں، وہ کسی طور نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ وہ ایسے حلقوں تک پہنچے ہیں جہاں عام داعی یا مبلغ کے لیے پہنچنا ممکن نہیں ہوتا۔ ان کی خدمات مستقبل میں بھی جاری رہیں گی، ان شاء اللہ۔ بعض لوگ ان پر تنقید کرتے ہیں، مگر ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہر میدان کا مجاہد الگ ہوتا ہے اور ہر دعوت کا انداز مختلف۔
اسی طرح میری ذاتی ترجیح مرکزی شوریٰ ہے، کیونکہ ان کا منہج، تنظیم اور اجتماعی نظم میرے فہم دین کے مطابق زیادہ منظم اور مضبوط نظر آتا ہے۔
ہم سپاہ صحابہؓ کے ان جوانوں کی بھی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں جنہوں نے تردیدِ شیعہ اور مدحِ صحابہؓ کے میدان میں جرأت و ہمت کے ساتھ کام کیا۔ یہ وہ خدمت ہے جو ہر شخص کے بس کی بات نہیں، حتیٰ کہ بعض بڑے اور ذہین افراد بھی اس محاذ پر کھڑے ہونے کی ہمت نہیں کرتے۔
اسی طرح مولانا راشد محمود سومرو صاحب نے فتنے کے زمانے میں جس حکمت، بصیرت اور دینی غیرت کے ساتھ کئی افراد کو علمائے حق کی جماعت سے جوڑا، وہ کسی معمولی کارنامے سے کم نہیں۔ ان کی حالیہ سرگرمیوں پر بعض افراد نے جس طرح نکتہ چینی کی اور انہیں نامناسب انداز میں پیش کیا، وہ بجائے اصلاح کے انتشار کا باعث بنی۔
اب ممکن ہے میری اس ساری بات کو بعض افراد یہ سمجھیں کہ میں ہر کسی کو خوش کرنا چاہ رہا ہوں، لیکن حقیقت میں یہ ان کا زاویۂ نظر ہے۔ میں تبصرہ کرنے کی بجائے اپنی ترجیحات کا اظہار کر رہا ہوں، اور اس اظہار میں ادب و وقار کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔
آج سے میری توجہ صرف "غزہ"، مظلومین عالم، اور امام مہدی و حضرت عیسیٰ علیہما السلام کے لشکر کی تیاری پر ہو گی۔ میں خود بھی اس لشکر کا سپاہی بننے کی کوشش کروں گا، اور دوسروں کی بھی اسی طرف توجہ دلاؤں گا۔
کیونکہ اب وقت آ چکا ہے کہ کفر اور اسلام کے مابین فیصلہ کن معرکہ کے لیے خود کو ذہنی، روحانی اور عملی طور پر تیار کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کے خادموں کا احترام کرنے، اختلاف میں نرمی اختیار کرنے، اور امت کے وسیع تر مفاد کے لیے اتحاد و بصیرت کے ساتھ سوچنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
✍️مولانا طاہراحمد بالاکوٹی
فاضل دارالعلوم کراچی
