دنیا کے افق پر اگر کوئی ملک مذہبی اعتبار سے مضبوط ہو، اور ساتھ ہی دفاعی طاقت کا حامل بھی ہو، تو وہ ملک بلاشبہ پاکستان ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں ایمان، قربانی، اور حب الوطنی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ آج پاکستان نہ صرف اسلامی نظریے کا محافظ ہے بلکہ دنیا کے سامنے ایک ایٹمی طاقت کے طور پر بھی کھڑا ہے۔ یہ محض ایک سیاسی حقیقت نہیں، بلکہ اس کے پیچھے ہماری فوج، علماء، اور عوام کی برسوں کی قربانیوں اور جدوجہد کی روشن تاریخ ہے۔
حال ہی میں بھارت کی طرف سے سرحدی خلاف ورزیوں کا سلسلہ ایک بار پھر تیز ہوا۔ مگر ہمیشہ کی طرح پاکستان نے نہایت دانشمندی اور جرات سے جواب دیا۔ بھارت کو یہ پیغام ایک بار پھر واضح طور پر دیا گیا کہ پاکستان نہ صرف امن کا خواہاں ہے بلکہ اپنی خودمختاری کی حفاظت بھی جانتا ہے۔ ان واقعات کے بعد سابق امریکی صدر ٹرمپ کی مداخلت اور پھر بھارتی وزیر اعظم مودی کا تازہ بیان، جس میں پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگائے گئے، یہ سب کسی معمولی پس منظر کا حصہ نہیں۔
یہ دراصل ان عالمی دجالی قوتوں کی چالیں ہیں جو پاکستان کو غیر مستحکم دیکھنا چاہتی ہیں۔ لیکن ان کی یہ خواہش ان شاء اللہ کبھی پوری نہیں ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان واحد اسلامی ملک ہے جو ہر موقع پر مظلوم مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرتا ہے، چاہے وہ فلسطین ہو یا کشمیر۔ حالیہ دنوں میں غزہ پر ہونے والے مظالم کے خلاف پاکستانی علماء کرام اور عوام نے جو پرزور اور بااثر موقف اپنایا، وہ پوری امت مسلمہ کے لیے باعثِ حوصلہ تھا۔
ادھر قطر کی طرف سے امریکی صدر کو 40 کروڑ ڈالر کا تحفہ دینا، اور ٹرمپ کا سعودی عرب کا دوریہ سب اس گہری عالمی سازش کا حصہ ہیں جو اسلام کے خلاف کی جا رہی ہے۔ ان دجالی قوتوں کی اصل نظر پاکستان پر ہے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اگر دنیا میں اسلام کا قلعہ کہیں قائم ہے، تو وہ صرف پاکستان ہے۔
ایسے میں یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم صرف اپنی ملکی سیاست کے جھگڑوں میں نہ الجھیں، بلکہ اصل دشمن کی پہچان کریں۔ یہ وقت ہے کہ نوجوان اپنے سیاسی وابستگیوں کے ساتھ ساتھ پاکستان اور اسلام کی بقاء کے لیے کام کریں۔
یاد رکھیں، پاکستان اس وقت بھی زندہ ہے، صرف اپنی فوج اور علماء کی محنت و قربانیوں کی بدولت۔ ہمیں اس مذہبی اور دفاعی قلعے کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ ہمارے اتحاد، یکجہتی اور ایمانی قوت ہی دشمن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔
لہٰذا، وقت کی ضرورت ہے کہ ہم سب، خاص کر نوجوان نسل، خود کو صرف پارٹی سیاست تک محدود نہ رکھیں بلکہ عالمی تناظر کو بھی سمجھیں اور امت مسلمہ کا دفاع کرنے والی طاقتوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔
اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔
ازقلم: مولانا طاہر احمد ہریپور ہزارہ
