TM-4 News
لوڈ ہو رہا ہے...
TM-4 NEWS
اسلامی تاریخ لوڈ ہو رہی ہے...

دو قومی نظریہ، نئی شکل، نیا المیہ


دو قومی نظریہ


ایک وقت تھا جب "دو قومی نظریہ" کی بنیاد پر برصغیر تقسیم ہوا۔ مسلمانوں نے الگ ریاست اس لیے حاصل کی کہ وہ اپنے مذہب، اقدار اور تشخص کے ساتھ آزادانہ زندگی گزار سکیں۔ لیکن آج 75 سال بعد، اسی پاکستان میں، "قوم" کی تعریف ایک بار پھر سوالیہ نشان بن چکی ہے۔


 بہاولپور میں مولانا مسعود اظہر کے خاندان کے 10 افراد کی میتیں اُٹھیں۔ یہ سب کے سب قریبی عزیز تھے۔ میتوں کو لے جانے کے لیے کوئی ایمبولینس میسر نہ تھی۔ ایک پرانی میونسپل ٹریکٹر ٹرالی میں ان جنازوں کو قبرستان پہنچایا گیا۔ نہ کوئی ڈپٹی کمشنر آیا، نہ کمشنر، نہ ایم این اے، نہ ایم پی اے، اور نہ ہی کوئی "قومی درد" رکھنے والے ادارے کا نمائندہ۔
دوسری طرف، اسی ملک میں ایک کرنل کے بچے کے جنازے میں صدر مملکت، وزیراعظم اور آرمی چیف بنفسِ نفیس شرکت کرتے ہیں۔ یہ سب دیکھ کر ایک عام شہری کی آنکھ نم اور دل زخمی ہوتا ہے۔ کیا ہم سب پاکستانی برابر کے شہری نہیں؟ کیا بلڈی سویلین کی عزت، دکھ اور موت کا بھی کوئی وزن ہے یا نہیں؟

یہ صرف مسعود اظہر کے خاندان کی بات نہیں۔ یہ ایک پوری کلاس کی نمائندگی ہے۔ اُن لوگوں کی جو وردی نہیں پہنتے، جو سرکاری پروٹوکول نہیں رکھتے، جن کے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں۔ لیکن ان کے دکھ بھی اصل اور ان کی لاشیں بھی انسان ہی کی ہوتی ہیں۔
دو قومی نظریہ کا مطلب کیا اب یہ رہ گیا ہے کہ ایک قوم وہ ہے جو بااختیار ہے، اور دوسری قوم وہ جو صرف خاموشی سے جیتی اور مرتی ہے؟
ہمیں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ کیا واقعی ریاستِ پاکستان میں ہر فرد برابر ہے؟ اگر نہیں، تو پھر یہ ملک ایک نئے "دو قومی نظریے" کی طرف بڑھ رہا ہے  ایک وہ قوم جو طاقتور ہے، اور ایک وہ جو صرف تعداد میں ہے۔

تحریر: [ محمداشرف ]

یہ بھی پڑھیں



Post a Comment

Previous Post Next Post