TM-4 News
لوڈ ہو رہا ہے...
TM-4 NEWS
اسلامی تاریخ لوڈ ہو رہی ہے...

جنگ عظیم دوم اور پاکستان میں انصاف کا قتل


جنگ عظیم دوم
جنگِ عظیم دوم کا اختتام دنیا کے کئی ممالک کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ برطانیہ، جو ایک زمانے میں "سورج نہ غروب ہونے والی سلطنت" کہلاتا تھا، اس جنگ کے بعد زوال کی جانب مائل ہو گیا۔ بظاہر تو برطانیہ اتحادیوں کے ساتھ جنگ جیت چکا تھا، لیکن حقیقت میں یہ جنگ اس کے استعماری تسلط کے خاتمے کا پیش خیمہ بن گئی۔ مارگریٹ تھیچر نے درست لکھا کہ "ہم جنگ تو جیت گئے، مگر ہندوستان اور افریقہ جیسے قیمتی مقبوضات سے ہاتھ دھونا پڑا۔"
لیکن برطانیہ کا اصل کمال اس کے عدالتی نظام میں تھا، جو تباہ کن جنگ کے دوران بھی فعال، بااختیار اور شفاف رہا۔ جب جنگ کے درمیان برطانوی وزیرِاعظم سے شکایت کی گئی تو انہوں نے جواب میں پوچھا: "کیا ہماری عدالتیں انصاف فراہم کر رہی ہیں؟" جواب اثبات میں ملنے پر انہوں نے پُراعتماد انداز میں کہا: "پھر ہمیں کوئی شکست نہیں دے سکتا۔" یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ ریاستی بقاء کا ایک اصول ہے جو تاریخ میں ہمیشہ صادق آیا ہے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ کہ برطانیہ جنگ میں ہزاروں جانیں کھو چکا تھا، شہروں پر بمباری ہو رہی تھی، معاشی بدحالی عام تھی، لیکن عوام کو اپنے نظام پر اعتماد تھا کیونکہ عدالتیں انصاف کر رہی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ برطانیہ تباہی کے کنارے کھڑے ہونے کے باوجود سنبھل گیا، عوام ریاست کے ساتھ کھڑے رہے، اور سسٹم پر یقین قائم رہا۔
اب اگر ہم پاکستان کی موجودہ صورت حال کا جائزہ لیں، تو مایوسی اور بے یقینی کا ایک گہرا بادل چھایا ہوا ہے۔ ایک طرف ملک بیک وقت داخلی انتشار، سیاسی محاذ آرائی، بدترین معاشی بحران اور عالمی دباؤ کی زد میں ہے، تو دوسری جانب عدلیہ انصاف دینے کے بجائے طاقتور حلقوں کے ہاتھ میں کٹھ پتلی بنی بیٹھی ہے۔ ریاست گویا جنگی ماحول میں ہے — سرحدوں پر کشیدگی، معیشت دیوالیہ پن کے قریب، ادارے ٹکراؤ کی کیفیت میں، اور عوام خوفزدہ اور مایوس۔
ایسے میں اگر انصاف کا قتل بھی ہو، عدالتیں طاقتور کے اشارے پر فیصلے کریں، اور عام شہری کی آواز دبائی جائے، تو یہ ملک کی سالمیت کے لیے ناقابلِ تلافی خطرہ بن جاتا ہے۔ ایک طرف عدالتیں عمران خان جیسے منتخب وزیرِاعظم کو سیاسی بنیادوں پر سزائیں سناتی ہیں، دوسری طرف طاقتور حلقے قانون سے ماورا ہو کر دندناتے پھرتے ہیں۔ یہ دہرا معیار نہ صرف عدلیہ کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ ریاست کی جڑوں کو کھوکھلا کرتا ہے۔
عدالتیں جس دن عوام کے اعتماد سے محروم ہو جائیں، اُس دن قومیں بکھرنے لگتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ روم ہو یا اندلس، عثمانی خلافت ہو یا مغلیہ سلطنت، جب عدل ختم ہوا، زوال آ گیا۔ آج پاکستانی عوام عدالتوں سے انصاف مانگتے ہیں، لیکن انہیں یا تو تاریخ پر تاریخ دی جاتی ہے یا فیصلے طاقتور کے حق میں نکلتے ہیں۔
یہ صورت حال ملک کے لیے ایک سنجیدہ خطرے کی علامت ہے۔ اگر ملک میں بداعتمادی، مایوسی، ناانصافی اور جبر کا دور دورہ رہے گا، تو قوم کا ریاست پر اعتماد ختم ہو جائے گا۔ اور جب قوم کسی ریاست پر اعتماد کھو دے، تو وہ ریاست زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔
پاکستان جیسے ایٹمی طاقت رکھنے والے ملک کو نہ بھارت شکست دے سکتا ہے، نہ کوئی بیرونی دشمن، لیکن اگر عدل کا نظام تباہ ہو گیا، تو یہ خود ریاست کے اندر سے تباہی کا سبب بنے گا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس نکتہ کو سمجھیں کہ اصل طاقت عدل میں ہے۔ برطانیہ نے جنگ جیتنے کے باوجود اپنی سلطنت گنوا دی، لیکن اپنے عدالتی نظام کی بدولت وہ ایک مضبوط، پائیدار ریاست بن کر کھڑا رہا۔ اگر پاکستان نے اپنی عدلیہ کو آزاد، بااختیار اور غیر جانبدار نہ بنایا، تو یہاں کوئی ادارہ سلامت نہیں رہے گا۔ عدل ہی وہ بنیاد ہے جس پر ریاست کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ اس بنیاد میں دراڑ آ جائے، تو عمارت گرنے میں دیر نہیں لگتی۔

Post a Comment

Previous Post Next Post