پاکستان میں گرایا جانے والا ایک ڈرون بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ ڈرون اسرائیلی ساختہ "Heron MK 2" ہے، جو اپنے جدید ڈیزائن، غیر معمولی بلندی پر پرواز کی صلاحیت، اور عسکری مقاصد میں استعمال ہونے والے جدید ترین ڈرونز میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب دنیا میں کہیں بھی اس ماڈل کا ڈرون گرایا گیا ہے، جو اس واقعے کی اہمیت کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
Heron MK 2 اسرائیل کی مشہور دفاعی کمپنی Israel Aerospace Industries (IAI) کا تیار کردہ ایک جدید ڈرون ہے، جو اپنے سابقہ ماڈل Heron 1 کی نسبت کئی گنا زیادہ طاقتور اور موثر ہے۔ یہ ڈرون 35,000 فٹ (تقریباً 10.6 کلومیٹر) کی بلندی پر پرواز کر سکتا ہے، جو کہ روایتی اینٹی ایئرکرافٹ گنز کی حد سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کی پرواز کا دورانیہ 45 گھنٹے تک ہو سکتا ہے، جس سے یہ لانگ رینج مشنز کے لیے انتہائی موزوں بن جاتا ہے۔ یہ ڈرون جدید سینسرز، کیمروں، اور الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز سے لیس ہوتا ہے، جو اسے انتہائی حساس اور دفاعی طور پر اہم مقامات کی نگرانی کے لیے مثالی بناتا ہے۔
اس ڈرون میں استعمال ہونے والا انجن "UAV Engines LTD" نامی برطانوی کمپنی کی جانب سے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ کمپنی Rolls-Royce Group سے منسلک ہے اور دنیا بھر میں UAV (Unmanned Aerial Vehicle) انجنز بنانے میں شہرت رکھتی ہے۔ ڈرون پر موجود لیبلز سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ اس میں یہی برطانوی ساختہ انجن نصب ہے۔
یہ واقعہ اس لیے بھی اہمیت رکھتا ہے کہ دنیا میں پہلی مرتبہ Heron MK 2 کو زمین پر گرایا گیا ہے۔ اس سے قبل یہ ڈرون کئی ممالک میں عسکری اور انٹیلیجنس مقاصد کے لیے استعمال ہو رہا تھا، لیکن اسے مار گرانے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب خطے میں اسرائیل، بھارت اور مغربی طاقتوں کے درمیان عسکری تعاون بڑھ رہا ہے، اور پاکستان سمیت مسلم ممالک پر ان کی خفیہ نگرانی اور دباؤ میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ایسے میں ایک اسرائیلی ڈرون کا پاکستانی فضائی حدود میں پایا جانا خطرے کی گھنٹی ہے۔
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کرے، بین الاقوامی سطح پر آواز اٹھائے، اور دفاعی حکمت عملی کو مزید مضبوط بنائے تاکہ مستقبل میں ایسے خطرات کا موثر طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں
