اسلام آباد (کورٹ رپورٹر) پاکستان کی سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا، جس کے مطابق مخصوص حالات میں عام شہریوں کا ٹرائل ملٹری کورٹس میں کیا جا سکتا ہے۔ یہ فیصلہ 5-2 کی اکثریت سے سنایا گیا، جس نے آئندہ کے لیے کئی آئینی، قانونی اور انسانی حقوق سے متعلق سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
سات رکنی آئینی بینچ، جس کی سربراہی جسٹس امین الدین خان کر رہے تھے، نے انٹرا کورٹ اپیلیں منظور کرتے ہوئے پچھلے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا جس میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے مقدمات کو غیر آئینی قرار دیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں آرمی ایکٹ کو اس کی اصل حالت میں بحال کر دیا گیا ہے، جو فوجی اداروں کو عام شہریوں کے خلاف کارروائی کا قانونی جواز فراہم کرتا ہے۔
فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے جسٹس نعیم الدین افغان اور جسٹس جمال مندوخیل نے اپنے اختلافی نوٹس میں خبردار کیا کہ یہ فیصلہ نہ صرف سویلینز کے بنیادی حقوق کے منافی ہے بلکہ آئین میں دیے گئے عدالتی تحفظ کے تصور کو بھی کمزور کرتا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق، اس فیصلے سے پاکستان کی عدلیہ کے عام شہریوں پر دائر اختیار کو ایک حد تک محدود کر دیا گیا ہے۔ عدالتی حلقے اسے سویلین عدلیہ کے اختیار پر "غیر آئینی دخل" قرار دے رہے ہیں، جو نہ صرف انصاف کی فراہمی کے راستے محدود کرتا ہے بلکہ فوجی عدالتوں میں شفافیت اور اپیل کے حق کی عدم موجودگی کی وجہ سے شہریوں کے بنیادی حقوق کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
سویلین افراد کو فوجی عدالتوں کے حوالے کرنا نہ صرف بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے سیاسی انتقام یا ناجائز سزاؤں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ یاد رہے کہ فوجی عدالتوں میں کارروائیاں خفیہ ہوتی ہیں، اور ان میں ملزمان کو قانونی وکیل تک رسائی محدود ہوتی ہے۔
یہ فیصلہ 9 مئی 2023 کے پرتشدد واقعات کے تناظر میں آیا ہے، جب ملک بھر میں فوجی تنصیبات پر حملے کیے گئے اور درجنوں سویلین افراد کو گرفتار کر کے آرمی ایکٹ کے تحت مقدمات میں نامزد کیا گیا۔ ان افراد میں بعض کے خلاف ابھی تک باقاعدہ چالان بھی جمع نہیں کرایا گیا، جس پر عدالتی و عوامی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
فیصلے کے بعد سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی ملے جلے ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ کچھ حلقے اسے قومی سلامتی کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اسے بنیادی انسانی حقوق اور جمہوری روایات کے منافی قرار دے رہے ہیں۔
