تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی ملک کی سالمیت، خودمختاری اور وقار کو چیلنج کیا جاتا ہے، تو خاموشی کمزوری کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ 7 مئی 2025 کو بھارت کی جانب سے پاکستان کے اندر کیے گئے میزائل حملے صرف ایک عسکری کارروائی نہیں تھے، بلکہ یہ حملے اس ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں جو پورے خطے کو جنگ کی آگ میں جھونکنے پر تُلی ہوئی ہے۔ بہاولپور، مظفرآباد، سیالکوٹ اور دیگر مقامات پر کی گئی یہ کارروائیاں نہ صرف پاکستان کی بین الاقوامی سرحد کی خلاف ورزی ہیں بلکہ عالمی قوانین، انسانی حقوق اور علاقائی امن کے تمام اصولوں کو روندنے کی ایک بھیانک مثال بھی ہیں۔ بھارت نے دعویٰ کیا کہ اس نے یہ حملے دہشت گرد گروہوں کے مبینہ ٹھکانوں پر کیے، جو بقول اس کے، پاکستان کی سرزمین سے بھارت کے خلاف کارروائیاں کر رہے تھے۔ یہ دعویٰ نہ صرف بے بنیاد ہے بلکہ اس کی کوئی آزاد، غیر جانبدار یا عالمی سطح پر تسلیم شدہ شہادت بھی موجود نہیں۔ بھارت کے میڈیا اور دفاعی اداروں کی جانب سے پھیلایا گیا بیانیہ دراصل ایک جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈا ہے جس کا مقصد پاکستان کو عالمی برادری میں بدنام کرنا، اور اندرونِ ملک اپنی عوام کو خوش رکھنا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بھارت میں سیاسی عدم استحکام، اقلیتوں پر مظالم، اور انتہاپسندی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق، کسی بھی خودمختار ریاست پر فضائی یا زمینی حملہ، اگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر کیا جائے، تو یہ جارحیت تصور کی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کا چارٹر، خاص طور پر آرٹیکل 2(4)، اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کوئی ملک طاقت کے زور پر دوسرے ملک کی سرحدیں پامال کرے، خواہ اس کے دعوے کچھ بھی ہوں۔ اگر بھارت کے اس اقدام کو نظر انداز کیا گیا، تو یہ مستقبل میں ایک خطرناک نظیر بن سکتا ہے، جو دنیا بھر میں طاقتور ممالک کو اجازت دے گا کہ وہ اپنے مفادات کی آڑ میں کسی بھی کمزور یا ترقی پذیر ملک کی خودمختاری کو روند ڈالیں۔ یہاں ایک اور اہم پہلو قابلِ غور ہے وہ ہے پاکستان کی ریاستی پالیسی۔ پاکستان نے ہمیشہ امن، ضبط، مذاکرات اور بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری کو ترجیح دی ہے۔ پاکستان کی طرف سے اقوام متحدہ، او آئی سی، اور دیگر عالمی اداروں سے رجوع کیا جانا اس کی سفارتی سنجیدگی کا مظہر ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا دنیا نے پاکستان کی فریاد کو سنجیدگی سے لیا؟ کیا عالمی برادری، خاص طور پر وہ ممالک جو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے سب سے بڑے محافظ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، بھارت کی جارحیت پر خاموش نہیں؟ اگر یہی حملے پاکستان کی طرف سے بھارت پر کیے جاتے تو کیا عالمی ردعمل یہی ہوتا؟ اب وقت ہے کہ پاکستان صرف بیانات اور اجلاسوں پر اکتفا نہ کرے۔ یہ صرف ایک فوجی چیلنج نہیں، بلکہ قومی وقار، خودمختاری اور عوام کے تحفظ کا سوال ہے۔ اگر پاکستان نے اس حملے کا فوری اور مؤثر جواب نہ دیا، تو یہ دشمن کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہو گا۔ بھارت کو معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان نہ صرف ایک ایٹمی طاقت ہے بلکہ ایک زندہ قوم ہے، جو اپنے ہر انچِ زمین کا دفاع کرنا جانتی ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ ایک جامع دفاعی حکمت عملی بنائے، جس میں دشمن کے عسکری اور انٹیلیجنس نیٹ ورک کو نشانہ بنایا جائے۔ ایسی کارروائیاں کی جائیں جو محدود ہوں، مگر اثر میں اتنی بھرپور ہوں کہ بھارت کے پالیسی سازوں کو یہ احساس ہو جائے کہ پاکستان کے صبر کو کمزوری سمجھنا ایک تاریخی غلطی ہوگی۔ ساتھ ہی، پاکستان کو ایک ڈیجیٹل وار بھی لڑنی ہوگی، جس میں میڈیا، سوشل میڈیا، اور عالمی سفارتی پلیٹ فارمز کو استعمال کرتے ہوئے بھارتی جارحیت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے لایا جائے۔ یہ بھی وقت ہے کہ پاکستان اپنی دفاعی تیاریوں، فضائی نگرانی، میزائل ڈیفنس سسٹمز اور انٹیلیجنس نظام کو ازسرنو فعال اور اپڈیٹ کرے۔ دشمن نے جو طریقہ کار اپنایا ہے، وہ مستقبل میں ہائبرڈ وارفیئر کی ایک جھلک ہے، جہاں نہ صرف میزائل چلائے جاتے ہیں بلکہ جھوٹے بیانیے بھی عالمی میڈیا کے ذریعے پھیلائے جاتے ہیں۔ پاکستان کے عوام کا جذبہ، افواجِ پاکستان کی قربانیاں، اور ملکی سالمیت کے لیے یکجہتی ہی ہمارا اصل ہتھیار ہے۔ دشمن چاہتا ہے کہ ہم اندرونی خلفشار میں الجھ جائیں، ایک دوسرے پر الزام تراشی کریں، اور اپنی اصل طاقت اتحاد کو بھول جائیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم متحد ہو کر، ایک زبان اور ایک موقف کے ساتھ آگے بڑھیں۔ یہ بات ہر پاکستانی کو سمجھنی چاہیے کہ امن کی ضمانت صرف دعاؤں اور قراردادوں سے نہیں، بلکہ ایک مؤثر دفاع، جارح دشمن کے خلاف بھرپور جواب، اور سفارتی محاذ پر دانشمندانہ چالوں سے دی جا سکتی ہے۔ بھارت کو یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ پاکستان پر حملہ کرنا صرف عسکری ردعمل ہی نہیں لاتا، بلکہ یہ ایک سیاسی، سفارتی اور دفاعی طوفان کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
