پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر خطے کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ بھارت کی جانب سے پاکستانی مین لینڈ پر میزائل حملوں کے بعد جو صورتحال بنی، وہ نہ صرف قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے بلکہ عوامی سطح پر شدید بےچینی اور اضطراب کا باعث بھی بنی۔ مشیرِ وزیراعظم رانا ثناء اللہ کے اس بیان نے وقتی طور پر کچھ لوگوں کو اطمینان ضرور دیا کہ "افواج نے کارروائی کی ہے، بھارت کو منہ توڑ جواب دیا جا چکا ہے، بھارت مزید کوئی کارروائی نہیں کرے گا تو ہم بھی ذمہ دار ریاست کے طور پر کارروائی نہیں کریں گے"، لیکن بہت سے پاکستانیوں کے ذہنوں میں یہ سوال ابھرا کہ کیا واقعی ہم نے برابر کا جواب دیا ہے؟
1971 کے بعد پہلی بار بھارت نے پاکستانی شہروں کو نشانہ بنایا۔ یہ صرف لائن آف کنٹرول پر کوئی جھڑپ نہیں تھی، بلکہ باقاعدہ میزائل حملے تھے جو بین الاقوامی سرحد کو عبور کر کے سویلین آبادی پر کیے گئے۔ اس حملے میں 26 پاکستانی شہری شہید ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ ایسے میں یہ توقع کی جا رہی تھی کہ پاکستان بھارت کو ایک ایسا جواب دے گا جو عسکری، نفسیاتی اور سفارتی ہر محاذ پر واضح ہو۔ مگر جوابی کارروائی صرف ایل او سی تک محدود رہی۔ بھارت نے بین الاقوامی سرحد توڑی، ہم نے نہیں توڑی۔ دشمن نے ہمارے شہروں کو نشانہ بنایا، ہم نے صرف متنازع علاقے میں عسکری جوابی اقدام کیا۔
یہ صرف جنگی ردعمل کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک اسٹریٹیجک پیغام دینے کا موقع تھا۔ ایک علامتی جواب، جیسے کسی خالی بھارتی مقام پر میزائل حملہ، جہاں کوئی جانی نقصان نہ ہو، مگر یہ پیغام ضرور مل جائے کہ اگر تم ہمارے شہروں کو نشانہ بناتے ہو، تو ہم بھی تمہارے شہروں تک پہنچ سکتے ہیں۔ دنیا اور بھارت کو یہ احساس ہونا چاہیے تھا کہ پاکستانی میزائل بھی بھارتی سرزمین کو چھو سکتے ہیں، چاہے صرف علامتی سطح پر ہی سہی۔ ہم نے ایسا کوئی پیغام نہیں دیا۔
آئی ایس پی آر نے انکشاف کیا کہ بھارت نے نیلم جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ کو بھی نشانہ بنایا۔ اگر ہم بھارت کے کسی ہائیڈرو انفراسٹرکچر کو نشانہ بناتے تو نہ صرف یہ ایک اسٹریٹیجک جواب ہوتا بلکہ دشمن کو ایک گہرا نفسیاتی دھچکہ بھی دیتا۔ ہمارے پاس غوری، ابدالی، حتف جیسے میزائل موجود ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان کو استعمال کرنے کا یہ وقت نہیں تھا، تو پھر کب ہے؟ ان کا مقصد کیا ہے؟ صرف پریڈز میں دکھانے کے لیے یا قومی سلامتی کے فیصلہ کن لمحات کے لیے؟
حکومتی مؤقف اپنی جگہ درست ہوسکتا ہے کہ ہم ایک ذمہ دار ریاست ہیں اور جنگ نہیں چاہتے۔ لیکن دشمن کو اگر یہ باور نہ کرایا جائے کہ ہر خلاف ورزی کا سخت جواب ملے گا، تو وہ بار بار سرحد پار کرے گا۔ برداشت اور کمزوری میں باریک فرق ہے، اور ہماری موجودہ پوزیشن نے دشمن کو یہ پیغام نہیں دیا کہ ہم ہر قیمت پر اپنی سرحدوں کا دفاع کریں گے۔
پاکستانی عوام کا غصہ، ان کا عدم تحفظ کا احساس، ان کے سوالات سب بجا ہیں۔ اگر ہم نے بھارتی شہروں کو نہیں نشانہ بنایا، تو کم از کم یہ علامتی کارروائی ضرور کر سکتے تھے جس سے یہ ثابت ہوتا کہ ہم کمزور نہیں، صرف محتاط ہیں۔ اس وقت عوام جس بے یقینی، اضطراب اور غصے کا شکار ہیں، وہ اسی خاموشی کا نتیجہ ہے۔ دشمن نے ہمیں نقصان پہنچایا، اور ہم نے عالمی ذمہ داری کے دائرے میں رہتے ہوئے بھی اس کا متناسب جواب دینے کا حق استعمال نہیں کیا۔
ہماری خاموشی دشمن کو یہ پیغام نہ دے دے کہ پاکستان اب صرف ردعمل کی بجائے برداشت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ بھارت کو یہ سبق دینا تھا کہ ہماری سرحدیں مذاق نہیں، ہماری شہریوں کی جانیں ارزاں نہیں، اور ہمارا صبر لامحدود نہیں۔ پاکستانی ائیر فورس نے اپنی حد تک لاج رکھی، ایل او سی پر دشمن کو جواب دیا، مگر اصل سوال وہی ہے کہ جب ہماری بین الاقوامی سرحدیں پامال ہوں، ہمارے شہری شہید ہوں، تو پھر ریاست کی سطح پر وہ پیغام کیوں نہیں دیا گیا جو دینا لازم تھا؟
ان حالات میں اگر عوام سوال اٹھاتے ہیں، تو انہیں خاموش کروانے کے بجائے جواب دینا چاہیے۔ دفاع، غیرت اور سلامتی کے معاملات میں سوال اٹھانا ملک دشمنی نہیں، بلکہ بیداری کی علامت ہے۔
تحریر: شہزاد حسین کراچی
