سفارتکاری کسی بھی ملک کی خارجی پالیسی کا نہایت حساس اور اہم شعبہ ہوتا ہے۔ ڈپلومیٹک پاسپورٹ ایک ایسا سفارتی استحقاق ہے جو محدود افراد عموماً حکومت کے اعلیٰ حکام، سفیروں اور مخصوص نمائندوں کو بین الاقوامی سطح پر سہولت و تحفظ دینے کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔ لیکن جب یہی استحقاق حکمران اشرافیہ کی ذاتی سہولت یا خاندانی مراعات کی بھینٹ چڑھ جائے، تو یہ سوالات جنم لیتے ہیں کہ آیا ریاستی وسائل اور قانونی اختیارات کو صرف ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنا کہاں تک درست ہے؟
پس منظر
پاکستان میں یہ رواج کوئی نیا نہیں کہ حکمران طبقے کے افراد اپنے بچوں، بیویوں، رشتہ داروں اور کبھی کبھار دوستوں کو بھی سفارتی پاسپورٹ جاری کرواتے ہیں۔ مختلف ادوارِ حکومت میں یہ عمل بارہا منظرِ عام پر آیا لیکن کسی بھی سطح پر مؤثر احتساب نہیں ہو سکا۔ حالیہ برسوں میں کئی اہم شخصیات کے بچوں کو ڈپلومیٹک پاسپورٹ دیے جانے کے انکشافات ہوئے، جن کا سفارت یا ریاستی نمائندگی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
قانونی حیثیت
پاکستان میں پاسپورٹ اور ویزا سے متعلقہ اُمور "امیگریشن اینڈ پاسپورٹ ایکٹ 1974" کے تحت طے پاتے ہیں۔ اسی طرح ڈپلومیٹک پاسپورٹس کے اجراء کا دائرہ کار محدود اور واضح ہے۔ یہ صرف اُن افراد کے لیے مخصوص ہیں جو ریاستِ پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان میں صدر، وزیراعظم، وزراء، وفاقی سیکریٹریز، سفارت کار اور بیرون ملک پاکستانی مشنز میں کام کرنے والے افراد شامل ہوتے ہیں۔ ان کے اہلِ خانہ کو بھی صرف اس صورت میں یہ سہولت دی جاتی ہے جب وہ اُن کے ہمراہ کسی سرکاری مشن پر ہوں۔ اس کے برعکس، کسی سیاستدان یا سرکاری افسر کے بچے، جن کا ریاستی ذمہ داریوں سے کوئی تعلق نہیں، اگر ڈپلومیٹک پاسپورٹ رکھتے ہیں، تو یہ نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ بدعنوانی کی ایک سنگین شکل بھی ہے۔
اخلاقی و سماجی پہلو
یہ عمل نہ صرف قانونی بدعنوانی ہے بلکہ اخلاقی لحاظ سے بھی نہایت افسوسناک ہے۔ ایسے حالات میں جب عام پاکستانی شہری ویزہ کے لیے سفارت خانوں کے باہر گھنٹوں انتظار کرتا ہے، جب حج و عمرہ جیسی مذہبی عبادات کے لیے بھی پیچیدہ ویزہ عمل سے گزرنا پڑتا ہے، وہاں حکمرانوں کے بچوں کو نہ صرف ویزہ فری رسائی حاصل ہو بلکہ انہیں ائیرپورٹس پر چیکنگ اور امیگریشن سے بھی استثنا حاصل ہو، تو یہ انصاف، مساوات اور شفافیت جیسے قومی اصولوں کی نفی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر اثرات
جب غیر مجاز افراد ڈپلومیٹک پاسپورٹ پر سفر کرتے ہیں اور بیرون ملک کسی تنازع یا غیر قانونی سرگرمی میں ملوث پائے جاتے ہیں، تو پوری قوم کی ساکھ داؤ پر لگ جاتی ہے۔ دنیا میں ایسے کئی مواقع آئے جب کسی پاکستانی "سفارتی" پاسپورٹ رکھنے والے شخص کی وجہ سے پاکستان کی ساکھ متاثر ہوئی۔ یورپی یونین، امریکہ، اور خلیجی ممالک میں اس طرح کے کیسز نے پاکستانی سفارتی مشنز کو مشکلات میں ڈالا اور امیگریشن حکام کی سختی میں اضافہ ہوا۔
نتائج اور خطرات
1. سفارتی وقار کی تذلیل: جب ڈپلومیٹک پاسپورٹ کا غلط استعمال عام ہو جائے، تو اس کی اصل اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔
2. بدعنوانی کو فروغ: ایسے اقدامات اشرافیہ کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ قانون ان کے لیے نہیں ہے۔
3. قانون کی بے توقیری: ریاستی قوانین اور ادارے کمزور ہوتے ہیں جب ان پر عملدرآمد میں تفریق روا رکھی جائے۔
4. عوام میں بداعتمادی: عام شہریوں میں ریاست کے نظام سے بداعتمادی پیدا ہوتی ہے، جو کسی بھی جمہوری نظام کے لیے خطرناک ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ ڈپلومیٹک پاسپورٹس کے اجراء کے لیے واضح، شفاف اور سخت قوانین بنائے اور ان پر عملدرآمد یقینی بنائے۔
ہر جاری کردہ ڈپلومیٹک پاسپورٹ کی فہرست عوامی سطح پر شائع کی جائے تاکہ شفافیت کا تاثر قائم ہو۔
نیب، ایف آئی اے اور دیگر احتسابی اداروں کو اس معاملے پر از خود نوٹس لینا چاہیے۔
میڈیا، سول سوسائٹی اور عوام کو اس غیر قانونی عمل کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔
ڈپلومیٹک پاسپورٹس کا غیر ضروری اور ناجائز استعمال صرف ایک دستاویزی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ قومی وقار، قانون کی بالادستی، اور ریاستی شفافیت کا مسئلہ ہے۔ اگر حکمران طبقہ خود کو قانون سے بالا تر سمجھے گا تو پھر عوام کو قانون کا پابند کیسے بنایا جا سکے گا؟ وقت آ چکا ہے کہ ہم اس طرزِ حکمرانی کا احتساب کریں اور ریاستی اداروں اور وسائل کو صرف اُن کے اصل حقداروں کے لیے مختص کریں۔
Tags:
تازہ ترین خبریں پاکستان
