تحریک انصاف کی متحرک کارکن طیبہ راجہ نے اپنے تازہ ترین سوشل میڈیا پیغام میں ایک بار پھر ملکی حالات پر کڑی تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ:
"ملٹری ٹرائلز منظور ہو گئے، ہمارے کیسز کے چالان تین مہینے میں مکمل کر کے سزائیں دینے کے قریب ہیں۔ 25 مزید لوگوں کو ملٹری لے جانے کی منظوری ہو گئی۔ جنگ کی آڑ میں یہ ہے خوشخبری۔"
انہوں نے ان فیصلوں کو آئینی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مزید کہا:
"اب اگر کوئی کہے خوشخبری آنے والی ہے تو اس کا احتساب کریں، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ ریچ کے لیے عجب تماشہ چل رہا ہے۔"
طیبہ راجہ کے اس بیان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف ملٹری ٹرائلز کے خلاف ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر "خوشخبری" کی مصنوعی فضا بنانے والوں کو بھی آڑے ہاتھوں لے رہی ہیں۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی کارکنوں کے خلاف کارروائیاں شدت اختیار کر رہی ہیں، اور سویلینز کے ملٹری کورٹس میں ٹرائلز پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے۔
کیا آپ کو لگتا ہے کہ سویلینز کے ملٹری ٹرائلز آئین کے مطابق ہیں؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں۔
