پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) فرانس کی قیادت نے عمران خان کے خلاف القادر ٹرسٹ کیس میں دیے گئے فیصلے کو "سیاسی انتقام" قرار دیا ہے۔ تحریک انصاف یورپ کے سینئر رہنما یاسر قدیر نے ایک خصوصی گفتگو میں کہا کہ اس کیس کا مقصد محض عمران خان کو نشانہ بنانا ہے، کیونکہ حقیقت میں کرپشن کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر واقعی کرپشن ہوئی ہوتی تو 190 ملین پاؤنڈ کی رقم سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں موجود نہ ہوتی، جو آج بھی وہاں محفوظ ہے۔
یاسر قدیر نے وضاحت کی کہ القادر یونیورسٹی جیسے فلاحی منصوبے کو نشانہ بنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ عمران خان کو سزا سیاسی بنیادوں پر دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ القادر یونیورسٹی کا مقصد پاکستانی نوجوانوں کو سیرت النبی ﷺ کی مفت تعلیم فراہم کرنا ہے، لیکن اس عظیم مقصد کو بھی سیاست کی نذر کر دیا گیا۔
فرانس میں عمران خان کی سزا پر مسلم لیگ (ن) کے حامیوں کی جانب سے منائی جانے والی خوشیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے یاسر قدیر نے کہا کہ یہ رویہ مایوس کن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شریف خاندان کی کرپشن پر نہ صرف ملک میں بلکہ عالمی سطح پر بھی متعدد کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ شریف خاندان کی کرپشن کے حقائق کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں، لیکن اس کے باوجود موجودہ حکومت عمران خان کو سیاسی میدان سے ہٹانے کے لیے من گھڑت مقدمات کا سہارا لے رہی ہے۔
یاسر قدیر نے اپنے بیان کے آخر میں زور دیا کہ عوام عمران خان کے خلاف ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور وہ اس سیاسی انتقام کے باوجود اپنے قائد کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے اور عمران خان کو ان بے بنیاد الزامات سے جلد رہائی ملے گی۔
