مساج کی وائرل تصویر سماجی اقدار اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تجزیہ
حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہوئی ہے جس میں چند خواتین ایک مرد کو مساج کرتی نظر آ رہی ہیں۔ اس تصویر نے صارفین کے درمیان شدید بحث و مباحثہ چھیڑ دیا ہے۔ بہت سے افراد نے اس عمل کو غیر اخلاقی، غیر سماجی اور اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیا ہے، جبکہ کچھ نے اسے "پیشہ ورانہ عمل" کہہ کر دفاع کرنے کی کوشش کی ہے۔
سماجی اقدار کی خلاف ورزی
ہمارے معاشرے میں خواتین اور مردوں کے درمیان جسمانی حدود کا خیال رکھا جاتا ہے۔ ایسی حرکات جو معاشرتی اقدار کے خلاف ہوں، نہ صرف تنقید کا باعث بنتی ہیں بلکہ نوجوان نسل پر منفی اثر ڈالتی ہیں۔ یہ تصویر خاص طور پر اس لیے متنازع ہے کہ یہ پیشہ ورانہ حدود اور ذاتی احترام کے اصولوں کو مبہم کرتی ہے۔
اسلامی نقطہ نظر
اسلام میں پردے اور حیاء کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ قرآن مجید میں واضح طور پر کہا گیا ہے:
"اور (اے نبی!) مومن مردوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے۔" (سورہ النور: 30)
اسی طرح، مومن عورتوں کو بھی اپنی حیاء کا خاص خیال رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس تصویر میں موجود عمل اسلامی اصولوں کے بالکل برعکس ہے کیونکہ اسلام کسی بھی ایسی حرکت کو منع کرتا ہے جو مرد اور عورت کے درمیان غیر ضروری اختلاط کا سبب بنے۔
سبق آموز پہلو
یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہمیں اپنی روزمرہ کی زندگی میں اسلامی تعلیمات کو اپنانے اور سماجی اقدار کا احترام کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسی تصاویر اور عمل نہ صرف ہمارے دینی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں بلکہ معاشرتی بد نظمی کو بھی فروغ دیتے ہیں۔
مزید برآں، سوشل میڈیا پر ایسے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے بجائے ہمیں ان سے مثبت سبق سیکھنے اور دوسروں کو بھی آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔
ذمہ داری کا مظاہرہ ضروری ہے
بطور مسلمان اور ذمہ دار شہری، ہمیں اپنے اعمال اور رویوں میں توازن پیدا کرنا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر کسی بھی مواد کو شیئر کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ وہ ہماری دینی، سماجی اور اخلاقی اقدار سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔ ایسی حرکات اور تصاویر کو فروغ دینا نہ صرف غیر مناسب ہے بلکہ معاشرتی انتشار کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری حقیقی ترقی اس وقت ممکن ہے جب ہم اسلامی اصولوں اور سماجی اخلاقیات کی پاسداری کریں۔
اسی تصویر پر اک سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ ڈاکٹر رضوان اسد نے لکھا ہے
ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں کسی پارلر میں کچھ باحجاب خواتین بڑی تندہی سے ایک مرد کا مینی/پیڈی کر رہی ہیں۔
لبرل ازم کے مطابق تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ وہ اپنی جاب کر رہی ہیں اور اس سروس کے پیسے لے رہی ہیں۔ بلکہ یہی کیا، اگر وہ اپنی رضامندی سے کچھ ایکسٹرا چارجز کے عوض اس کا مساج بھی شروع کر دیں تو بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ اور مزید پیسوں کے لیے اس سے بھی آگے چلی جائیں تو بھی کسی کو اعتراض کا کوئی حق نہیں۔ یہی کیپٹل ازم اور لبرل ازم کا ازلی گٹھ جوڑ ہے۔
فیمن ازم کے مطابق بھی یہ ایمپاورڈ خواتین ہیں جو پیسوں کے لیے کسی مرد کی محتاج نہیں۔ یہ کسی مرد کی خدمت نہیں کر رہیں، محض پیسوں کے لیے اپنی جاب کر رہی ہیں، قطع نظر اس سے کے کلائنٹ مرد ہے یا عورت۔ یعنی کیپٹل ازم نے پیسے کی چکا چوند سے مرد کی مردانگی کو بالکل ہوا کر دیا اور فیمن ازم بھی کیپٹل ازم کا مینی/پیڈی کرنے لگ گیا، بالکل ویسے ہی جیسے یہ خواتین۔ بلکہ یہاں بھی اگر عورت اس سے آگے بڑھ کر پیسے کی خاطر پورن سٹار بھی بن جائے تو بھی ایسے کیریئر اور ایمپاورمنٹ پر فیمن ازم کو فخر تو ہو سکتا ہے، اعتراض ہرگز نہیں۔
اور ایسی "چھوٹی چھوٹی" باتوں کو مذہب کی عینک اتار کر دیکھنا ہی سیکولر ازم ہے۔ مذہب اس بارے میں کیا کہتا ہے، "سروس" لینے اور دینے والے کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے۔مذہب ہر ایک کا ذاتی معاملہ ہے لہٰذا جسے کرنا/کروانا ہے، کروائے، نہیں کرنا/کروانا، نہ کروائے لیکن ان کو برا بھلا کہہ کر اپنے نظریات ان پر نہ تھوپے۔
اور اسلام کیا کہتا ہے، میرا خیال ہے مجھے بتانے کی ضرورت نہیں۔ آپ کے گھر کوئی دس سال کا بچہ ہے تو وہ بھی بتا دے گا۔
لیکن مسئلہ پھر وہی ہے کہ لبرل، سیکولر اور فیمنسٹس اپنے آپ کو کس منہ سے مسلمان کہتے ہیں؟
یا تو انہیں ان نظریات کا ککھ پتا نہیں، یا پھر اسلام کا ککھ پتا نہیں۔۔۔۔ یا دونوں کا ہی ککھ پتا نہیں ۔
کیا کوئی چوتھا امکان ہے؟
