شہزاد اکبر کی جانب سے سامنے آنے والی کہانی، جس میں انہوں نے ایک طاقتور عسکری شخصیت کو فیلڈ مارشل کا عہدہ ملنے کو مبینہ طور پر امریکہ اور ٹرمپ انتظامیہ سے کسی خفیہ مفاہمت یا ڈیل کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
اگر واقعی عالمی قوتوں کی کسی اندرونی ڈیل میں شراکت رہی ہے، تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور خودمختاری پر اس کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟ کیا یہ ملکی استحکام کے لیے ضروری شراکت داری ہے یا پھر ریاستی ڈھانچے کو دباؤ میں لا کر مخصوص فیصلے کروانے کی ایک شکل؟ ان سوالات کے جوابات آسان نہیں، مگر ان پر سنجیدہ قومی مکالمے کی ضرورت ہے۔
اسی تناظر میں پنجاب میں غنڈہ ایکٹ کا نفاذ، جو بظاہر قانون و نظم کی بہتری کے لیے کیا جا رہا ہے، ایک خاص طبقے کے نزدیک غیر معمولی اختیارات کے جواز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگر اس قانون کا اطلاق صرف جرائم پیشہ عناصر تک محدود رہا تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے، لیکن اگر اس کے ذریعے سیاسی مخالفین کو دبایا گیا یا اسے اختلاف رائے ختم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، تو یہ جمہوری معاشرے کے لیے ایک تشویشناک قدم ہو گا۔
خیبرپختونخوا کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہاں قدرتی وسائل سے مالا مال علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اب کسی قانونی بل یا مقامی حکومت سے منظوری کی ضرورت محسوس نہیں کی جائے گی بلکہ براہ راست فوجی کارروائی کے ذریعے زمین خالی کروائی جائے گی۔ یہ دعویٰ اگرچہ فی الحال قیاس پر مبنی ہے، مگر ماضی کے تناظر میں جیسے ڈرون حملوں پر خاموشی اختیار کی گئی، یہ تصور تقویت پکڑتا ہے کہ مقامی حکومتیں یا تو مجبور ہیں یا اس معاملے میں بے اختیار۔ اگر واقعی ایسا ہوا، تو اس کے نتائج صرف جغرافیائی نہیں، بلکہ سماجی، معاشی اور ثقافتی سطح پر بھی شدید ہوں گے۔
سیاسی قیدیوں، بالخصوص عمران خان کی گرفتاری، عوامی سطح پر گہری بے چینی کا باعث بنی ہے۔ ان کے حامیوں کا ماننا ہے کہ اگر عمران خان رہا ہو جائیں تو موجودہ بحران ٹل سکتا ہے۔ لیکن یہ بات بھی اہم ہے کہ رہائی صرف عوامی دباؤ یا احتجاج سے نہیں بلکہ آئینی و قانونی طریقوں سے ہونی چاہیے تاکہ ریاستی ادارے، عدلیہ اور جمہوریت کا وقار قائم رہ سکے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے مخصوص نشستوں کی تقسیم اور ممکنہ طور پر اس کے بعد کی جانے والی قانون سازی کے بارے میں بھی شدید تحفظات سامنے آ رہے ہیں۔ بعض افراد کا خیال ہے کہ ایسی قانون سازی کی جا سکتی ہے جو بنیادی شہری آزادیوں کو متاثر کرے گی۔ ایسے میں عوام کا ہوشیار اور باخبر ہونا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ پاکستانی قوم ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ ایک راستہ وہ ہے جس میں خاموش تماشائی بن کر حالات کے دھارے میں بہتے رہنا ہے، اور دوسرا وہ ہے جس میں قوم آئینی، پرامن اور منظم طریقے سے اپنی رائے کا اظہار کرے، ظلم کے خلاف کھڑی ہو، اور اپنے مستقبل کی سمت خود متعین کرے۔ کسی آسمانی معجزے کا انتظار کرنا اگرچہ امید کا پہلو رکھتا ہے، مگر تاریخ یہی بتاتی ہے کہ اللہ کا فضل ان ہی قوموں پر ہوتا ہے جو خود کو بدلنے کی کوشش کرتی ہیں۔
یہ وقت کسی جذباتی یا سطحی ردعمل کا نہیں، بلکہ دانشمندی، فہم و فراست، اور قومی یکجہتی کا ہے۔ ریاست، ادارے، اور عوام سب کو ایک دوسرے پر اعتماد قائم کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہو گا۔ وگرنہ اگر حالات اسی نہج پر چلتے رہے، تو ایک ایسا وقت بھی آ سکتا ہے جب نہ صرف آزادیاں سلب ہوں گی، بلکہ ان کی قیمت نسلیں ادا کرتی رہیں گی۔
