TM-4 News
لوڈ ہو رہا ہے...
TM-4 NEWS
اسلامی تاریخ لوڈ ہو رہی ہے...

سویلین پر فوجی ٹرائل آئینی قانونی اور اخلاقی تجزیہ



سویلین پر فوجی ٹرائل: آئینی، قانونی اور اخلاقی تجزیہ

پاکستان میں ایک بار پھر آئین، عدلیہ اور ریاستی اداروں کے درمیان تعلق پر ایک بڑی قانونی بحث چھڑ چکی ہے۔ 9 مئی کے واقعات کے بعد کچھ سویلین افراد کے خلاف فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا فیصلہ کیا گیا، جس پر عدالتِ عظمیٰ میں مقدمہ زیر سماعت ہے۔ اس موقع پر اٹارنی جنرل کی جانب سے جو دلائل دیے گئے، وہ بحث طلب ہیں۔

کیا ماضی کی قانون شکنی، حال کا جواز بن سکتی ہے؟

عدالت میں دیے گئے دلائل میں کہا گیا کہ چونکہ ماضی میں بھی سویلین پر فوجی ٹرائل ہوئے ہیں، لہٰذا اب بھی ایسا کرنا قابلِ قبول ہے۔ لیکن یہ مؤقف آئینی اصولوں کی نفی ہے۔ اگر ماضی میں کوئی اقدام غلط تھا تو آئندہ بھی اس کو دہرانا قانون کی نہیں بلکہ طاقت کی حکمرانی کا اعلان ہوگا۔

آئینِ پاکستان کا مؤقف کیا کہتا ہے؟

آرٹیکل 10-A ہر پاکستانی شہری کو منصفانہ ٹرائل کا حق دیتا ہے۔ فوجی عدالتوں میں نہ کھلی عدالت ہوتی ہے، نہ وکیل کے انتخاب کی آزادی، اور نہ ہی شفاف کارروائی۔ یہ بنیادی آئینی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔

آرٹیکل 8 کہتا ہے کہ کوئی بھی قانون جو بنیادی حقوق کے خلاف ہو، وہ کالعدم ہے۔ اس تناظر میں سویلین کا فوجی عدالت میں ٹرائل آئینی طور پر ناقابلِ قبول ہے۔

ریاستی اداروں کا تحفظ ضروری مگر آئینی حدود میں

ریاستی اداروں پر حملے کی مذمت بجا، لیکن ان حملوں کا جواب قانون اور آئین کے دائرے میں دیا جانا چاہیے۔ اگر ریاستی ردعمل بھی غیر آئینی ہو جائے، تو جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ آئین کا احترام ہر حال میں ضروری ہے، حتیٰ کہ بحران کی حالت میں بھی۔

عالمی قوانین کی روشنی میں

پاکستان International Covenant on Civil and Political Rights (ICCPR) کا دستخط کنندہ ہے، جو ہر شہری کو شفاف اور غیر جانبدار ٹرائل کا حق دیتا ہے۔ عالمی سطح پر بھی سویلین پر فوجی عدالتوں میں مقدمات کی سخت مخالفت کی جاتی ہے۔

عدالتِ عظمیٰ کا کردار فیصلہ کن ہے

پاکستانی عدلیہ نے ماضی میں نظریہ ضرورت کو مسترد کر کے تاریخ رقم کی۔ اب ایک بار پھر عدالت کے سامنے یہ موقع ہے کہ وہ واضح کرے کہ قانون کی حکمرانی طاقت سے بالاتر ہے۔ اگر اس بار عدالت نے ماضی کی روش کو جواز تسلیم کر لیا، تو یہ آنے والے وقت کے لیے ایک خطرناک نظیر بن جائے گی۔

نتیجہ: ایک آئینی ریاست یا طاقت کی حکمرانی؟

سویلین پر فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہ صرف آئین کی خلاف ورزی ہے، بلکہ پاکستان کے جمہوری مستقبل کے لیے بھی خطرہ ہے۔ اٹارنی جنرل کے دلائل آئینی کمزوری کو نہیں چھپا سکتے۔ ریاست کو قانون کے تحت چلنا ہوگا، اور ہر شہری کو آئین کے مطابق انصاف کا حق دینا ہوگا۔

Post a Comment

Previous Post Next Post