نیتن یاہو نے بڑی کامیابی سے فی الحال امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کو روک دیا ہے۔ اس کا مقصد بظاہر یہ تھا کہ ایران پر عالمی دباؤ مزید بڑھے، اور اسرائیل کی سلامتی کو درپیش خطرات کو فوری طور پر ختم کیا جا سکے۔ اس طرح کی خارجہ پالیسی کو بظاہر ایک "کامیابی" کہا جا سکتا ہے، کیونکہ اس نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کو تعطل کا شکار بنا کر ایک اہم اسٹریٹجک ایڈوانٹیج حاصل کر لیا۔ لیکن اس ایڈونچر کے اصل اثرات اب سامنے آ رہے ہیں، اور ان سے واضح ہو رہا ہے کہ نیتن یاہو جس کھیل میں کودا ہے، وہ شاید اس کے قابو سے باہر ہو گیا ہے۔
فی الوقت صورت حال یہ ہے کہ ایران سے بلاواسطہ جنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔ اگر یہ جنگ طویل ہوتی ہے اور امریکہ اس میں براہ راست شامل نہیں ہوتا، تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس طویل جنگ میں کون زیادہ دیر تک میدان میں ٹھہر سکتا ہے؟ کس کے پاس اسٹریٹجک گہرائی (Strategic Depth) اور وقت کی طاقت زیادہ ہے؟ یہ دونوں عوامل ایران کے حق میں نظر آتے ہیں۔
ایران ایک مکمل ریاست ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے بہت بڑا ملک، آبادی کے لحاظ سے مضبوط، اور نظریاتی اعتبار سے ایک متحد قوم۔ اس کے پاس عراق، شام، یمن، لبنان جیسی سیٹلائیٹ ریاستیں موجود ہیں جن کے ذریعے وہ اپنی عسکری و نظریاتی طاقت کو وسعت دیتا ہے۔ ایران کی پراکسیز پاکستان سے لے کر افریقہ تک پھیلی ہوئی ہیں، جن میں حزب اللہ، حوثی، فاطمیون، زینبیون، اور دیگر شامل ہیں۔ ایرانی رجیم صرف ایک حکومت نہیں بلکہ ایک تحریک ہے جو گہرے سماجی اور مذہبی نظریات پر استوار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران کو صرف ایک ملک کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک وسیع تر مزاحمتی نظام کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
اس کے برعکس اسرائیل ایک انتہائی محدود اور جغرافیائی لحاظ سے تنگ ریاست ہے۔ اس کی آبادی کا بڑا حصہ یورپی نسل کے یہودی آبادکاروں پر مشتمل ہے جو کسی بھی بڑے خطرے کی صورت میں نقل مکانی کو ترجیح دیتے ہیں۔ اسرائیل کی پوری ریاستی حکمت عملی اسی مفروضے پر قائم ہے کہ اسے یورپی، امریکی یا مغربی یہودیوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بنانا ہے۔ لیکن اگر یہی پناہ گاہ مستقل طور پر جنگ کی زد میں رہے، اور شہری علاقوں پر ڈرون، میزائل یا حملے ہوتے رہیں، تو ان کا وہاں رہنا کتنا دیرپا ہو سکتا ہے؟ حالیہ واقعات میں ہم نے دیکھا کہ معمولی خطرے پر بھی اسرائیلی عوام میں بےچینی کی لہر دوڑ جاتی ہے، اور وہ ہوائی اڈوں کا رخ کرتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کی طویل المدتی بقاء، ایک نظریہ یا خواب سے زیادہ نہیں، اگر زمینی حالات مسلسل خراب رہیں۔
اب نیتن یاہو دو دہائیوں سے جاری اپنی سیاسی بقا کی جنگ میں ایک نیا پینترا مارنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے پاس صرف دو راستے ہیں۔ پہلا راستہ یہ کہ امریکہ کو کسی نہ کسی طرح مجبور کرے کہ وہ ایران میں براہ راست مداخلت کرے، جس کے نتیجے میں وہاں رجیم چینج ہو جائے، یا کم از کم ایرانی فوجی صلاحیتوں کو تباہ کیا جا سکے۔ لیکن امریکہ اب اس قسم کی مہمات سے تنگ آ چکا ہے۔ عراق اور افغانستان جیسے تجربات نے امریکی پالیسی سازوں کو یہ سبق سکھایا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں براہ راست مداخلت، صرف تباہی اور غیر معینہ مدت کی جنگوں کو جنم دیتی ہے۔
نیتن یاہو کا دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ کسی ایسی صورت حال کی تلاش کرے جس کے تحت وہ جنگ سے نکل جائے مگر شکست خوردہ محسوس نہ ہو۔ مگر یہ کام آسان نہیں۔ ایرانیوں نے حالیہ کشیدگی میں نہ صرف اسرائیل کی عسکری صلاحیت کو چیلنج کیا بلکہ اسرائیلی سماج میں خوف کی لہر بھی دوڑا دی۔ یہ حقیقت کسی سے چھپی نہیں کہ ایرانی حملوں کے بعد اسرائیلی آبادی میں جو افراتفری دیکھی گئی، اس نے نیتن یاہو کی حکومت کو شرمندہ کر دیا۔ سیاسی سطح پر بھی اسرائیل کی داخلی سیاست میں بے چینی بڑھتی جا رہی ہے، اور عالمی سطح پر اسرائیل کا امیج ایک مظلوم ریاست سے زیادہ ایک جارح قوت کے طور پر ابھر رہا ہے۔
یہ تمام حقائق اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ نیتن یاہو نے وقتی فائدہ حاصل کرنے کے لیے جو اقدام کیا، وہ دراصل ایک طویل، مہنگی، اور شاید تباہ کن جنگ کا پیش خیمہ بن چکا ہے۔ اب اس کے پاس نہ کوئی واضح حکمت عملی بچی ہے اور نہ ہی واپسی کا آسان راستہ۔ اس کی ساری کوششیں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ کسی طرح وہ عالمی رائے عامہ، امریکی حمایت اور اندرونی سیاست کو ایک ایسے مقام پر لے جائے جہاں اسے کم از کم اپنی سیاسی بقا تو حاصل ہو، چاہے اس کے لیے خطے کو مکمل طور پر عدم استحکام کی نذر ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
فی الوقت حقیقت یہی ہے کہ نیتن یاہو اس کھیل میں پھنس چکا ہے۔ اگر وہ جنگ جاری رکھتا ہے، تو اسرائیل کی سلامتی اور معیشت خطرے میں ہے۔ اگر جنگ سے نکلتا ہے تو شکست تسلیم کرنا پڑے گی۔ اور اگر امریکہ ایران میں کودتا ہے تو ایک نئی عالمی مصیبت جنم لے گی، جو شاید عراق اور افغانستان سے کہیں زیادہ تباہ کن ہو۔
محمداشرف
