بالاکوٹ کاغان: (خصوصی رپورٹ محمداشرف) خیبرپختونخوا کے خوبصورت سیاحتی مقام کاغان میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کی جانب سے گزشتہ رات کے وقت نصب کیا گیا ٹول پلازہ مقامی عوام کے غیض و غضب کا شکار بن گیا۔ آج عصر کے بعد مشتعل عوام نے اس ٹول پلازہ کو مکمل طور پر اکھاڑ کر دریائے کنہار میں پھینک دیا۔
یہ ٹول پلازہ کاغان کے داخلی مقام پر نصب کیا گیا تھا اور نصب کے فوری بعد ہی NHA اہلکاروں نے اس سے سیاحوں سے ٹیکس وصولی کا آغاز کر دیا تھا۔ تاہم مقامی شہریوں کو اس اقدام پر پہلے ہی شکوک تھے کیونکہ نہ تو اس حوالے سے عوامی سطح پر مشاورت کی گئی اور نہ ہی کوئی پیشگی اطلاع دی گئی۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز سے پتا چلا کہ پلازہ خفیہ طور پر جلد بازی میں لگایا گیا، جس پر عوام میں غصہ بڑھتا گیا۔
عوام کا مؤقف تھا کہ NHA سڑک کی خستہ حالی، سیفٹی کا فقدان، بارشوں کے بعد لینڈ سلائیڈنگ سے راستے بند رہنے جیسے مسائل کو حل کرنے میں مکمل ناکام رہی ہے۔ آئے روز مقامی افراد اور سیاح حادثات کا شکار ہوتے ہیں، سڑک پر جگہ جگہ کھڈے اور حفاظتی دیواروں کی عدم موجودگی سے جان کو خطرہ لاحق رہتا ہے۔ عوام کا سوال تھا کہ جب سڑک کے کسی حصے پر بھی NHA کی موجودگی یا سہولت نظر نہیں آتی، تو صرف محصول لینے کے لیے ٹول پلازہ کس جواز پر قائم کیا گیا؟
مقامی سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ رجب علی آزاد، نقاش رفیق کاشی، مولاداد میر، اور سید شبیر حسین شاہ سمیت درجنوں نامور افراد نے اس عمل کی شدید مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹورازم اور سیزن میں عوام کو لوٹنے کے لیے چور دروازے سے فیصلے کیے جا رہے ہیں، عوام سے مشورہ لیے بغیر یہ اقدام دراصل عوامی اعتماد پر ڈاکہ ہے۔
ماضی میں بھی بالاکوٹ اور اس کے مضافات میں ایسے کئی مواقع آئے جب NHA نے عوام سے مشاورت کے بغیر ٹیکس وصولی کی کوشش کی، مگر مقامی نوجوانوں نے سخت ردعمل دے کر ان منصوبوں کو ناکام بنایا۔
واضح رہے کہ وادیٔ کاغان کا سیاحتی سیزن صرف تین سے چار ماہ کا ہوتا ہے، باقی سال برف باری، بند راستے اور خاموشی طاری رہتی ہے۔ اس کے باوجود ٹول پلازہ کی تنصیب سے مقامی آبادی کو خدشہ تھا کہ مستقبل میں یہ مستقل ٹیکس وصولی کا ذریعہ بن جائے گا اور کاغان کے بجائے بالاکوٹ کے انٹری مقام پر نصب ہو سکتا ہے جس کے بعد ہر خاص و عام کو شامل کر لیا جائے گا۔
دوسری جانب، عوامی سطح پر یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ پہلے سڑکوں کی مرمت، سیفٹی اقدامات، اور لینڈ سلائیڈنگ کے مستقل حل کی ضمانت دی جائے، پھر کسی بھی قسم کی فیس یا ٹیکس پر بات ہو سکتی ہے۔
فی الحال، دریائے کنہار کی موجوں میں بہتا ہوا یہ ٹول پلازہ نہ صرف عوامی غصے کی علامت بن گیا ہے بلکہ یہ واضح پیغام بھی دے گیا ہے کہ کسی بھی فیصلے کو عوامی رائے اور سہولت کے بغیر مسلط نہیں کیا جا سکتا۔
