سکردو (نمائندہ خصوصی) گلگت بلتستان کے پُر فضا وادیوں کی سیاحت پر آنے والے گجرات کے چار نوجوان سیاح ایک ہفتہ قبل لاپتہ ہو گئے تھے، جن کی تلاش جاری تھی۔ اب اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ ان کی گاڑی گلگت-سکردو روڈ پر گنجی پڑی کے مقام پر ایک خطرناک موڑ پر حادثے کا شکار ہوئی ہے۔
مقامی پولیس، ریسکیو 1122، اور دیگر امدادی اداروں نے مشترکہ طور پر گاڑی کی تلاش کا عمل جاری رکھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق حادثے کا مقام انتہائی دشوار گزار اور خطرناک ہے، جس کی وجہ سے گاڑی تک براہِ راست رسائی میں مشکلات درپیش ہیں۔ تاہم دوربین کے ذریعے مشاہدہ کرنے پر گاڑی کے اندر چاروں نوجوانوں کی لاشیں دیکھی گئی ہیں۔
متاثرہ سیاحوں کی شناخت اور پس منظر
ذرائع کے مطابق، چاروں نوجوان دوستوں کا تعلق پنجاب کے شہر گجرات سے تھا، جو گزشتہ ہفتے سیروسیاحت کی غرض سے بلتستان روانہ ہوئے تھے۔ لاپتہ ہونے سے قبل انہوں نے اپنے اہل خانہ سے آخری رابطہ سکردو کی حدود میں کیا تھا، جس کے بعد ان کے موبائل فون بند آ رہے تھے۔ اہل خانہ کی جانب سے مقامی انتظامیہ کو درخواست دی گئی تھی جس پر تلاش کا عمل شروع ہوا۔
حادثے کی وجوہات اور مزید تحقیقات
پولیس کے مطابق بظاہر ایسا لگتا ہے کہ گاڑی تیز رفتاری یا سڑک کی خرابی کے باعث بے قابو ہو کر گہری کھائی میں جا گری۔ تاہم حتمی معلومات لاشوں کے نکالے جانے اور گاڑی کے مکمل معائنے کے بعد ہی سامنے آئیں گی۔
ریسکیو ٹیمیں اب بھی موقع پر موجود ہیں اور کوشش کی جا رہی ہے کہ لاشوں کو نکال کر شناخت کے بعد ورثاء کے حوالے کیا جائے۔ سڑک کی خستہ حالی اور سخت موسم امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
علاقہ مکینوں کا ردعمل
مقامی افراد کے مطابق یہ مقام ماضی میں بھی کئی حادثات کا سبب بن چکا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گلگت-سکردو روڈ پر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے اور خطرناک مقامات پر سائن بورڈز، ریلنگ اور دیگر حفاظتی اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔
حکومتی ردعمل
تاحال مقامی یا صوبائی حکومت کی طرف سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم ضلعی انتظامیہ نے امدادی کارروائیوں کو تیز کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔


