بالاکوٹ: گاؤں ٹنگر کے مسائل اور معاوضے کی عدم ادائیگی پر شدید تحفظات
بالاکوٹ کے گاؤں ٹنگر کے رہائشی سردار محمد شاہجہان نے حکام بالا سے اپیل کرتے ہوئے گاؤں کے مسائل اور مشکلات کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گاؤں ٹنگر کو تین سال پہلے سکی کناری ڈیم کی ٹرانسمیشن لائن بچھانے کے دوران کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا، جنہیں آج تک حل نہیں کیا گیا۔
سردار محمد شاہجہان نے بتایا کہ ٹرانسمیشن لائن کی بچھائی کے دوران گاؤں کے پانی کی پائپ لائن کو نقصان پہنچا، زرعی زمینوں کو متاثر کیا گیا، اور قیمتی درختوں کو کاٹ دیا گیا۔ ان کے مطابق، یہ تمام نقصانات گاؤں والوں کی روزمرہ زندگی اور معیشت پر گہرے اثرات ڈال رہے ہیں، مگر متاثرہ افراد کو ان کا پورا معاوضہ فراہم نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں
انہوں نے دعویٰ کیا کہ معاوضے کے نام پر جو رقم تقسیم کی گئی، وہ زیادہ تر غیر متعلقہ افراد کو دی گئی جبکہ اصل متاثرین کو نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے کہا، "ہم چاہتے ہیں کہ معاوضے کی ادائیگی میں شفافیت لائی جائے اور تحقیقات کی جائیں کہ یہ رقم کس کو اور کتنی دی گئی ہے۔ میرے قیمتی اخروٹ کے درخت، جن کی مالیت لاکھوں روپے تھی، تباہ ہوگئے، لیکن مجھے ایک روپیہ بھی نہیں ملا۔"
مزید یہ کہ انہوں نے گاؤں میں لگائی گئی بجلی کی تاروں کے حوالے سے بھی شدید خدشات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تاریں زمین کے انتہائی قریب ہیں، جو کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہیں۔ گاؤں کی زرعی زمینوں کو پانی کی فراہمی متاثر ہونے کی وجہ سے فصلوں کی پیداوار میں بھی شدید کمی واقع ہوئی ہے، جس سے مقامی کسان مالی مشکلات کا شکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
سردار محمد شاہجہان نے حکام بالا سے مطالبہ کیا ہے کہ گاؤں کے نقصانات کا جائزہ لے کر فوری ازالہ کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو وہ بھرپور احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم اپنے حقوق کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے تاکہ انصاف حاصل کیا جا سکے۔"
گاؤں ٹنگر کے رہائشیوں کی یہ شکایت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ متاثرہ علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کے دوران عوامی مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس مسئلے پر فوری توجہ دیں اور گاؤں کے باشندوں کو ان کے جائز حقوق فراہم کریں۔
