TM-4 News
لوڈ ہو رہا ہے...
TM-4 NEWS
اسلامی تاریخ لوڈ ہو رہی ہے...

شادی ایک پاکیزہ بندھن یا رسومات کا بوجھ


شادی: ایک پاکیزہ بندھن یا رسومات کا بوجھ؟

شادی ایک مقدس رشتہ ہے جو نہ صرف دو افراد بلکہ دو خاندانوں کو بھی جوڑتا ہے۔ اسلام نے اس رشتے کو آسان اور سادہ رکھنے کی تاکید کی ہے، تاکہ یہ ہر فرد کی پہنچ میں ہو۔ مگر ہمارے معاشرے میں شادی کو اس قدر مشکل بنا دیا گیا ہے کہ یہ سہولت کے بجائے مسائل اور مصائب کا سبب بن رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہ غیر ضروری رسومات اور توقعات ہیں جنہوں نے معاشرتی اقدار کو زوال کی طرف دھکیل دیا ہے۔
ہمارے معاشرے میں بیٹی کی پیدائش کے ساتھ ہی والدین جہیز کی فکر میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ غریب والدین اپنی معاشی استطاعت سے بڑھ کر بیٹی کے لیے جہیز اکٹھا کرنے میں زندگی کا بڑا حصہ صرف کر دیتے ہیں۔ اس صورتحال کے نتیجے میں والدین اپنی بچیوں کو تعلیم اور تربیت فراہم کرنے کے بجائے جہیز کی تیاری پر توجہ دیتے ہیں۔ جب والدین جہیز کے انتظام میں ناکام رہتے ہیں، تو بچیاں گھروں میں بیٹھی رہ جاتی ہیں۔ یہ صورتحال اکثر اوقات ان بچیوں کو ایسے افراد کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہے جو ان کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

دوسری جانب لڑکے اور ان کے خاندان پر شادی کے نام پر غیر ضروری رسومات اور اخراجات کا دباؤ ڈال دیا جاتا ہے۔ شادی کے موقع پر والدین کی جانب سے بڑے ہالز بک کرنا، پرتکلف کھانے کا انتظام، قیمتی تحائف دینا، اور دیگر فضول خرچیاں اس دباؤ کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔  بہت سے لڑکے ان اخراجات کو پورا کرنے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

قرض اتارنے کے لیے لڑکے کو ملک سے باہر جانا پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں نئی نویلی دلہن سسرال میں تنہا رہ جاتی ہے۔ دلہن کے ازدواجی حقوق متاثر ہوتے ہیں اور ازدواجی زندگی مشکلات کا شکار ہو جاتی ہے۔
 رسومات کی ادائیگی کے لیے دونوں خاندانوں پر سماجی دباؤ بڑھتا ہے، جس سے معاشرتی تعلقات متاثر ہوتے ہیں۔ لوگ اپنی استطاعت سے بڑھ کر اخراجات کرتے ہیں، جو معاشی عدم استحکام کا باعث بنتا ہے۔ فضول رسم و رواج کی وجہ سے ازدواجی زندگی کا مقصد سکون اور راحت کے بجائے تنازع اور مسائل بن جاتا ہے۔

اسلام نے شادی کو آسان رکھنے کا حکم دیا ہے تاکہ یہ ہر فرد کی دسترس میں ہو۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں خرچ کم ہو۔

ہمیں معاشرے میں آسان نکاح کے رواج کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ علماء، اساتذہ، اور میڈیا کے ذریعے جہیز اور فضول رسومات کے خلاف شعور پیدا کیا جائے۔  شادی کو سادہ رکھنے کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ایسے افراد کو معاشرے میں عزت دی جائے جو سادگی کو اپنائیں۔
 حکومت کو جہیز اور فضول رسومات کے خلاف قوانین بنانا چاہیے تاکہ لوگوں کو ان رسومات سے بچایا جا سکے۔ خاندانوں کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے پر غیر ضروری توقعات کا بوجھ نہ ڈالیں۔

نکاح کے اسلامی اصولوں کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ شادی آسان اور برکت کا ذریعہ بنے۔ شادی ایک پاکیزہ رشتہ ہے جسے آسان اور سادہ رکھنے سے نہ صرف انفرادی زندگی بلکہ پورا معاشرہ سکون اور خوشحالی کی طرف گامزن ہو سکتا ہے۔ ہمیں اپنے طرزِ فکر کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر اور پُرامن معاشرہ فراہم کر سکیں۔ فضول رسومات کو ترک کر کے ہم اپنی زندگیوں کو آسان اور خوشگوار بنا سکتے ہیں۔

اور آخری بات: خدساختہ رسومات کو چھوڑنے کی راہ میں یہ ایک جملہ آڑے آ جاتا ہے۔ "لوگ کیا کہیں گے؟" یاد رکھیں، لوگ کہتے تھے، کہتے ہیں، کہتے رہیں گے۔ لوگوں کے کہنے کے ڈر سے ہم اپنی زندگی کیوں مشکل میں ڈالیں؟ ہمیں وہ کرنا چاہیے جس میں ہمیں آسانی ہو۔ لوگ نہ تو آپ کے گھر آٹے کی بوری لا کر دیتے ہیں اور نہ آپ کی مشکل میں آپ کا بازو بنتے ہیں۔ لوگ صرف کہتے ہیں، اور لوگوں کے کہنے کو جوتے کی نوک پر رکھ کر وہ کرنا ہے جو ہماری زندگی آسان بنائے۔

ازقلم: محمداشرف

Post a Comment

Previous Post Next Post