پاکستانی سیاست اور بیوروکریسی میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو غیر معمولی رفتار سے عروج پاتی ہیں، اور ان کے پیچھے ایک منظم سرپرستی کا نظام کام کر رہا ہوتا ہے۔ محسن نقوی بھی ایسی ہی ایک شخصیت ہیں، جو چند سال پہلے تک ایک نسبتاً غیر معروف صحافی تھے، مگر آج وہ کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے عہدے تک جا پہنچے ہیں۔ ان کا عروج، سیاسی و عسکری قوتوں کی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں تھا، اور یہی بات انہیں ایک منفرد مگر متنازعہ حیثیت دیتی ہے۔
محسن نقوی کے حالیہ اقدامات میں کرکٹ گراؤنڈز کی تزئین و آرائش اور نئے اسٹیڈیمز کی تعمیر کا عمل شامل ہے، جسے میڈیا پر بھرپور پذیرائی دی جا رہی ہے۔ لیکن اگر حقیقی اصلاحات کی بات کی جائے تو پاکستان کی کرکٹ میں درپیش بنیادی مسائل جیسے کہ گراس روٹ لیول پر ٹیلنٹ کی کمی، ڈومیسٹک کرکٹ کے ناقص سسٹم، انتظامی بدنظمی اور سیاست، کھلاڑیوں کے لیے جدید سہولیات کی عدم دستیابی، یہ تمام مسائل جوں کے توں موجود ہیں۔
ان پر کوئی جامع پالیسی دیکھنے میں نہیں آ رہی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ محسن نقوی کا اصل مشن صرف ایک خاص بیانیہ تیار کرنا ہے تاکہ ان کی شخصیت کو عوام میں مقبول بنایا جا سکے، نہ کہ واقعی کھیل میں بہتری لانا۔
حسب روایت میڈیا پر ہیرو بنانے کی کوشش بھی جاری ہے۔یہ کوئی نئی بات نہیں کہ پاکستان میں میڈیا کا ایک مخصوص طبقہ ایسے افراد کی تصویر کشی "ہیرو" کے طور پر کرتا ہے جنہیں مستقبل میں کسی بڑے عہدے پر فائز کرانا مقصود ہوتا ہے۔
محسن نقوی کا چرچا اسی مہم کا حصہ معلوم ہوتا ہے، جس طرح ماضی میں شہباز شریف کو میٹرو منصوبے کے ذریعے "عوام دوست" حکمران کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ ان کے مثبت اقدامات کو بڑھا چڑھا کر دکھایا جاتا ہے، جبکہ ان کی ناکامیاں اور کمزوریاں دبانے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے۔
محسن نقوی کو پہلے نگران وزیراعلیٰ پنجاب بنایا گیا، پھر انہیں وفاقی وزیرداخلہ کا عہدہ دیا گیا، اور اب وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بن چکے ہیں۔ یہ کوئی عام سیاسی سفر نہیں بلکہ واضح طور پر ایک طاقتور حلقے کی جانب سے انہیں اس مقام تک پہنچایا جا رہا ہے۔
نگران وزیراعلیٰ کے طور پر انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کی وفاداری کا ثبوت دیا۔
پنجاب میں الیکشن دھاندلی کے معاملات میں ان کا کردار کھل کر سامنے آیا۔
میڈیا میں ان کی امیج بلڈنگ مسلسل جاری ہے، جس کا مقصد انہیں مستقبل کے کسی اہم عہدے کے لیے تیار کرنا ہو سکتا ہے۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے کسی خاص فرد کو "مستقبل کا لیڈر" بنانے کے لیے پروموٹ کیا ہو۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے افراد ہمیشہ مخصوص قوتوں کے لیے ہی کام کرتے رہے ہیں اور عوامی مفادات سے زیادہ ان حلقوں کی ترجیحات کو اہمیت دیتے ہیں۔
عوامی فلاح کے منصوبے صرف دکھاوا ہوتے ہیں، اصل مقاصد کچھ اور ہوتے ہیں۔
انتخابات میں من پسند نتائج حاصل کرنے کے لیے مخصوص افراد کو آگے لایا جاتا ہے۔ میڈیا کو استعمال کر کے ان افراد کا ایسا امیج بنایا جاتا ہے کہ وہ عوام میں مقبول لگیں۔
یہ سوال بہت اہم ہے کہ کیا واقعی محسن نقوی کو مستقبل کے کسی بڑے عہدے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے؟
اگر ان کے اب تک کے کیریئر پر نظر ڈالیں تو جو عہدے انہیں دیے گئے ہیں، وہ بظاہر مختلف شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن ان سب کا ایک مشترکہ نکتہ ہے، طاقتور حلقوں کے مکمل کنٹرول میں رہنا۔
نگران وزیراعلیٰ کے طور پر الیکشن پر اثر انداز ہونا
وزیرداخلہ کے طور پر اسٹیبلشمنٹ کے مفادات کا تحفظ کرنا
کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے طور پر عوام میں ایک مثبت امیج بنانا
یہ تمام مراحل ایک بڑے منصوبے کا حصہ لگتے ہیں، اور امکان یہی ہے کہ انہیں مستقبل میں کسی اہم حکومتی عہدے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔
محسن نقوی کی تیز رفتار ترقی کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کا حصہ ہے۔ وہ ایک ایسی شخصیت ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کے مفادات کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر موزوں سمجھی جاتی ہیں۔
ان کی موجودہ سرگرمیوں کو عوامی فلاح کا لبادہ پہنا کر درحقیقت انہیں ایک قابل قبول اور مقبول چہرے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ وقت بتائے گا کہ وہ کس حد تک اس کھیل میں کامیاب ہوتے ہیں۔
یہ طے ہے کہ پاکستانی عوام کے لیے اصل مسائل اب بھی وہی ہیں، جنہیں نہ تو محسن نقوی حل کرنے کی نیت رکھتے ہیں اور نہ ہی ان کے سرپرستوں کو اس کی فکر ہے۔
ازقلم: محمداشرف
