TM-4 News
لوڈ ہو رہا ہے...
TM-4 NEWS
اسلامی تاریخ لوڈ ہو رہی ہے...

پولیس اختیارات کا ناجائز استعمال ایک سنگین مسئلہ


پولیس اختیارات کا ناجائز استعمال ایک سنگین مسئلہ

پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بنیادی مقصد شہریوں کی حفاظت، انصاف کی فراہمی، اور مجرموں کو قانون کے دائرے میں لانا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے، ہم ایک ایسے نظام کا مشاہدہ کر رہے ہیں جہاں پولیس کے اختیارات کا ناجائز استعمال روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ عوام کے ٹیکس پر پلنے والی یہ فورس اب خود ایک خوف کی علامت بنتی جا رہی ہے، اور حالیہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پولیس اپنے فرائض کی ادائیگی کے بجائے ظلم و جبر کا آلہ کار بن چکی ہے۔

 لاہور کے قذافی اسٹیڈیم کے باہر ایک پولیس اہلکار نے ایک صحافی کو تھپڑ مارا۔ یہ واقعہ اس بات کا عکاس ہے کہ پولیس کو نہ تو میڈیا کی پرواہ ہے، نہ عوامی ردعمل کا خوف، اور نہ ہی قانون کی پاسداری کا کوئی خیال۔

اسی طرح، ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک پولیس اہلکار کو ایک مجبور گداگر خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ جب شہری نے  ظلم کی ویڈیو بنائی تو اس نے سرکاری رائفل سے فائر کھول دیا، گویا عوام کو یہ پیغام دیا کہ پولیس اہلکار اپنے جرم کو چھپانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ، ایک اور واقعے میں پولیس اہلکار نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ایسے واقعات اس حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے خود قانون توڑنے میں پیش پیش ہیں اور انہیں روکنے والا کوئی نہیں۔
یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر پولیس اہلکار اتنے بے خوف کیوں ہیں؟ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں؟ پولیس کو ہمیشہ سے ہی سیاسی مخالفین کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ جب کوئی حکومت اپنے مفادات کے لیے پولیس کا ناجائز استعمال کرتی ہے تو پولیس کو یقین ہو جاتا ہے کہ وہ ناقابلِ گرفت ہیں۔
اگر کوئی شہری پولیس کے خلاف مقدمہ درج کروا بھی لے تو اکثر معاملات میں تفتیشی عمل انتہائی سست اور ناقص ہوتا ہے۔ نتیجتاً، مجرم اہلکاروں کو سزا نہیں ملتی، اور وہ مزید بے خوف ہو جاتے ہیں۔ پولیس کے نظام میں کرپشن اس حد تک سرایت کر چکی ہے کہ اگر کوئی پولیس اہلکار جرم کرے بھی تو اسے آسانی سے بچا لیا جاتا ہے۔ اعلیٰ افسران اور بااثر افراد ان مجرم اہلکاروں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

پولیس کے پاس غیر معمولی اختیارات ہوتے ہیں، لیکن جب ان اختیارات کو احتساب کے بغیر دیا جائے تو ان کا ناجائز استعمال یقینی ہو جاتا ہے۔ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں تربیت کے معیار پر کم توجہ دی جاتی ہے۔ اہلکاروں کو طاقت کے استعمال کا درست طریقہ سکھانے کے بجائے انہیں ایک "بدمعاش" فورس کے طور پر تربیت دی جاتی ہے، جو طاقت کے زور پر عوام کو دبانے پہ یقین رکھتی ہے۔

اس صورت حال کو بدلنے کے لیے فوری اور سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ پولیس کے بھرتی، تربیت، اور کارکردگی کے جائزے کے عمل کو شفاف بنایا جائے۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ہر پولیس اہلکار کی نگرانی کی جائے تاکہ کوئی بھی خلاف ورزی فوراً پکڑی جا سکے۔ پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک کرنے کے لیے ایک آزاد کمیشن بنایا جائے جو پولیس کے معاملات کی نگرانی کرے۔
ایسے پولیس اہلکار جو اختیارات کا ناجائز استعمال کریں، ان کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں جو پولیس کے مظالم کے مقدمات کو جلد نمٹائیں۔ ایسا پلیٹ فارم بنایا جائے جہاں عام شہری پولیس کے خلاف شکایت درج کر سکیں اور ان کی شکایات پر فوری کارروائی کی جائے۔
میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو  فعال کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ پولیس کے ظلم کو بے نقاب کیا جا سکے اور حکام کو مجبور کیا جائے کہ وہ مجرم اہلکاروں کے خلاف کارروائی کریں۔

اگر پولیس کے اختیارات پر چیک اینڈ بیلنس کا مؤثر نظام نہ بنایا گیا تو یہ فورس عوام کے لیے سہارا بننے کے بجائے ایک عذاب بنتی رہے گی۔ یہ قوم کے ٹیکس پر پلنے والی فورس ہے، اس کا کام عوام کی خدمت اور انصاف کی فراہمی ہے، نہ کہ عوام پر ظلم ڈھانا۔ اگر ان جرائم کا سدباب نہ کیا گیا تو عوام کا اعتماد ریاستی اداروں سے بالکل اٹھ جائے گا، اور نتیجتاً، معاشرے میں انتشار اور بدامنی مزید بڑھ جائے گی۔ اب وقت آ چکا ہے کہ ان مجرموں کو وردی کے پیچھے چھپنے نہ دیا جائے بلکہ انہیں قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے تاکہ انصاف کا بول بالا ہو۔

ازقلم: محمداشرف

Post a Comment

Previous Post Next Post