صنم جاوید پر دوران گرفتاری تشدد کی تصدیق سرکاری میڈیکل رپورٹ نے پردہ چاک کر دیا
لاہور (نمائندہ خصوصی) تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والی سرگرم سیاسی کارکن صنم جاوید پر دوران گرفتاری تشدد کی تصدیق سرکاری میڈیکل رپورٹ میں ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صنم جاوید کے جسم کے مختلف 13 مقامات پر زخموں کے نشانات پائے گئے، جو واضح طور پر جسمانی تشدد کی نشاندہی کرتے ہیں۔
یہ انکشاف اس وقت ہوا جب عدالتی کارروائی کے دوران وکلا نے میڈیکل رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ میں بیان کیا گیا کہ ان کے بازو، ٹانگیں، کمر، اور کندھوں پر نیل، سوجن اور خراشوں کے نشانات موجود ہیں۔ اس رپورٹ نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا خواتین کی عزت، جان و مال کا تحفظ اب صرف کتابی باتیں رہ گئی ہیں؟
صنم جاوید کا قصور کیا تھا؟ محض ایک سیاسی رہنما کی حمایت؟ ایک نظریے سے وابستگی؟ یا پھر یہ کہ وہ ایک باشعور عورت تھی جو ظلم کے خلاف آواز بلند کر رہی تھی؟ جب کسی جمہوری ریاست میں ایک عورت کو صرف سیاسی وابستگی کی بنیاد پر گرفتار کیا جائے اور پھر دوران حراست اس پر تشدد کیا جائے، تو یہ نہ صرف جمہوریت کی روح کو مجروح کرتا ہے بلکہ اسلامی اقدار اور آئین پاکستان کی کھلی توہین ہے۔
اسلام میں عورت کو عزت و حرمت کا مقام حاصل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی عورتوں کے ساتھ سب سے بہتر سلوک کرتا ہے۔" (ترمذی) کیا آج کے حکمران اور اہل اقتدار اس حدیث پر عمل کر رہے ہیں؟ کیا ایک مسلمان ریاست میں کسی خاتون کو مارا پیٹا جانا، اس کی تذلیل کیا جانا، جائز ہے؟
آئین پاکستان کا آرٹیکل 14 ہر شہری کی عزت نفس اور جسمانی تحفظ کو بنیادی حق قرار دیتا ہے۔ اسی طرح قانونِ تحفظِ حقوقِ نسواں 2006 اور 2010 کے خواتین تحفظ قوانین بھی واضح کرتے ہیں کہ خواتین پر تشدد ناقابلِ قبول ہے۔ پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ریاست خود اپنے قانون کی دھجیاں نہیں اڑا رہی؟
جب ایک تعلیم یافتہ، باشعور خاتون کو سرِ عام نشانہ بنایا جائے تو دیگر خواتین کو کیسا پیغام ملتا ہے؟ یہ عمل خواتین کو سیاسی اور سماجی میدان سے باہر دھکیلنے کا حربہ بن جاتا ہے۔ اگر میڈیکل رپورٹوں کے بعد بھی انصاف نہ ملا تو عدلیہ پر عوام کا اعتماد مزید کم ہو جائے گا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کسی خاتون پر تشدد عوام میں ان اداروں کی غیرجانبداری پر سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ اس طرح کے واقعات سیاسی مخالفت کو ذاتی دشمنی میں بدل دیتے ہیں، جو کسی بھی جمہوریت کے لیے زہر قاتل ہے۔
صنم جاوید پر تشدد صرف ایک فرد پر ظلم نہیں، یہ خواتین، جمہوریت، قانون، اور انسانیت سب پر حملہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس معاملے پر آزادانہ تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، اور خواتین کے تحفظ کو صرف تقاریر نہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے یقینی بنایا جائے۔
