TM-4 News
لوڈ ہو رہا ہے...
TM-4 NEWS
اسلامی تاریخ لوڈ ہو رہی ہے...

یومِ صحافت: آزادی یا خاموشی؟




ہر سال 3 مئی کو دنیا بھر میں یومِ آزادیٔ صحافت منایا جاتا ہے۔ یہ دن اُن تمام صحافیوں کی قربانیوں، جدوجہد اور سچائی کے لیے جدوجہد کرنے والے کرداروں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن ہے جنہوں نے اپنے قلم کو ضمیر کے تابع رکھا، چاہے اس کے بدلے میں انہیں نوکری، شہرت، آزادی یا حتیٰ کہ اپنی جان ہی کیوں نہ دینی پڑی ہو۔
لیکن جب ہم پاکستان کی بات کرتے ہیں تو یہ دن ایک سوال بن کر سامنے آتا ہے: کیا واقعی پاکستان میں صحافت آزاد ہے؟ کیا یہاں سچ بولنے والے کو تحفظ حاصل ہے؟ کیا ریاست، ادارے، اور طاقتور حلقے صحافیوں کو اپنے ضمیر کے مطابق کام کرنے دیتے ہیں؟ ان سوالات کے جواب تلاش کرنا آج کے پاکستان کی سب سے بڑی ضرورت بن چکا ہے۔


پاکستان میں صحافیوں پر سب سے بڑا دباؤ ریاستی اداروں کی طرف سے آتا ہے۔ ایسے موضوعات جنہیں قومی سلامتی، اسٹیبلشمنٹ، یا عدلیہ سے جوڑا جائے، اُن پر رپورٹنگ کرنا گویا بارود کے ڈھیر پر بیٹھنے کے مترادف ہے۔ ٹی وی چینلز کو بلاواسطہ یا بالواسطہ طریقوں سے اشارے دیے جاتے ہیں کہ کن خبروں کو نشر کرنا ہے اور کن کو نظر انداز۔ کبھی پریشر گروپس اور خفیہ ادارے براہِ راست صحافیوں کو پیغامات بھیجتے ہیں، کبھی کسی پروگرام کو آن ایئر ہونے سے روکا جاتا ہے، اور کبھی کسی چینل کو پورے ملک میں بند کر دیا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر سرگرم صحافیوں کی مانیٹرنگ اب ایک معمول کی بات ہے۔ سائبر کرائم قوانین کو بعض اوقات صحافیوں کی آواز دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ "ریاست مخالف بیانیہ" یا "فوج مخالف ٹوئٹس" کے نام پر کئی صحافیوں کے خلاف ایف آئی آر درج ہو چکی ہیں۔ ایسے میں صحافیوں کو اکثر خودساختہ سنسرشپ اختیار کرنا پڑتی ہے تاکہ وہ اپنے روزگار اور آزادی کو بچا سکیں۔


پاکستانی میڈیا کا ایک بڑا مسئلہ صحافیوں کی معاشی حالت ہے۔ ہزاروں صحافی ایسے ہیں جنہیں مہینوں تنخواہیں نہیں ملتیں۔ چھوٹے شہروں میں کام کرنے والے رپورٹرز اکثر بغیر تنخواہ، صرف شناختی کارڈ یا پریس پاس کے بدلے "نام" بنانے کے چکر میں جان مار رہے ہوتے ہیں۔ اخبارات اور چینلز کو جب حکومتی اشتہارات بند کر دیے جاتے ہیں، تو اس کا براہِ راست اثر ورکرز پر پڑتا ہے۔ کئی میڈیا ادارے صحافیوں کو زبردستی فارغ کر دیتے ہیں، جبکہ فری لانس صحافیوں کے پاس نہ کوئی قانونی تحفظ ہوتا ہے، نہ مستقل آمدنی کا ذریعہ۔
صحافت پاکستان میں ایک خطرناک پیشہ بن چکا ہے۔ رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (RSF) اور کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ) کی رپورٹس کے مطابق پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں صحافیوں کے قتل کے اکثر مقدمات یا تو حل نہیں ہوتے یا پھر مجرموں کو سزا نہیں ملتی۔ مشال خان کا سوشل میڈیا پر تجزیہ جرم بن گیا۔ ارشد شریف کو کینیا میں گولی مار دی گئی۔ سلیم شہزاد کا قتل آج تک معمہ ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان، کوئٹہ، وزیرستان، اور کراچی جیسے علاقوں میں رپورٹنگ کرنا گویا موت کو دعوت دینا ہے۔


پاکستانی میڈیا اب آزاد صحافت کے بجائے نظریاتی و سیاسی صف بندی کا شکار ہو چکا ہے۔ کچھ چینلز حکومت کے حمایتی ہیں، کچھ اپوزیشن کی زبان بولتے ہیں۔ صحافیوں کو بھی اسی پیمانے پر پرکھا جانے لگا ہے: یا وہ "ہمارے" ہیں یا "ان کے"۔ ایسے ماحول میں سچائی کی جگہ پروپیگنڈا نے لے لی ہے۔ اصل صحافت، تحقیق، فیکٹ چیکنگ اور غیرجانبدار تجزیہ ناپید ہوتا جا رہا ہے۔
تمام تر مشکلات، سنسرشپ، اور خطرات کے باوجود پاکستان میں ایسے نوجوان اور سینئر صحافی موجود ہیں جو حق، سچ، اور عوامی مفاد کے لیے خاموش نہیں ہوتے۔ وہ جانتے ہیں کہ صحافت محض نوکری نہیں بلکہ ایک ذمہ داری، ایک امانت، اور ایک جدوجہد کا نام ہے۔ ڈیجیٹل صحافت اور یوٹیوب چینلز نے ایک نئی راہ کھولی ہے جہاں پابندیوں سے کچھ حد تک آزادی ملتی ہے۔ سوشل میڈیا نے کم از کم عوام کو متبادل آوازیں سننے کا اختیار دیا ہے۔
آزاد صحافت صرف صحافیوں کا مسئلہ نہیں، یہ ہر باشعور شہری کی ذمہ داری ہے۔ اگر صحافی آزاد ہوں گے تو حکمران جواب دہ ہوں گے۔ اگر میڈیا آزاد ہوگا تو عوام باشعور ہوں گے۔ ہمیں بطور قوم یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں محض “فرمانبردار صحافت” چاہیے یا "ضمیر کی آواز"۔ کیونکہ اگر سچ بولنے والوں کی زبان کاٹی جاتی رہی، تو ایک دن پورا معاشرہ بہرا ہو جائے گا۔

Post a Comment

Previous Post Next Post