اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) پاکستان کی وفاقی کابینہ نے آج 20 مئی 2025 کو ایک اہم اور تاریخی فیصلے میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر کو "فیلڈ مارشل" کے اعزازی رینک پر ترقی دینے کی منظوری دے دی۔ اس فیصلے سے جنرل عاصم منیر پاکستان کے دوسرے فوجی افسر بن گئے ہیں جنہیں یہ اعلیٰ ترین فوجی اعزاز حاصل ہوا ہے۔ اس سے قبل یہ رینک صرف جنرل محمد ایوب خان کو 1959 میں دیا گیا تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس میں اس فیصلے کو قومی سلامتی اور عسکری قیادت کے میدان میں غیر معمولی کارکردگی کا اعتراف قرار دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق یہ ترقی خاص طور پر "آپریشن بنیان مرصوص" اور "معرکۂ حق" میں جنرل عاصم منیر کی قیادت میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کے اعتراف میں دی گئی ہے۔
وفاقی حکومت کے اعلامیہ کے مطابق جنرل عاصم منیر کی زیرِ قیادت پاک فوج نے دشمن کی جارحیت کا بھرپور جواب دیتے ہوئے ملکی سرحدوں کا کامیابی سے دفاع کیا، اور خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ صدر مملکت ڈاکٹر آصف علی زرداری کو بھی اس فیصلے پر اعتماد میں لیا گیا۔
فیلڈ مارشل کا رینک پاکستان آرمی کا پانچ ستارہ (Five-Star) رینک ہوتا ہے، جو جنرل کے عہدے سے بھی بلند اور اعزازی نوعیت کا حامل ہوتا ہے۔ یہ رینک فعال ذمہ داریوں کی بجائے غیر معمولی عسکری خدمات کے اعتراف میں بطور اعزاز دیا جاتا ہے اور یہ زندگی بھر کے لیے ہوتا ہے۔
یاد رہے کہ جنرل سید عاصم منیر نے نومبر 2022 میں چیف آف آرمی اسٹاف کا عہدہ سنبھالا تھا، اور نومبر 2023 میں ان کی مدتِ ملازمت میں تین سال کی توسیع کر دی گئی تھی، جس کے بعد وہ نومبر 2027 تک آرمی چیف کے طور پر خدمات انجام دیتے رہیں گے۔
