TM-4 News
لوڈ ہو رہا ہے...
TM-4 NEWS
اسلامی تاریخ لوڈ ہو رہی ہے...

عمران خان سے بہنوں کی ملاقات، پارٹی پالیسیز اور ملاقاتوں پر اہم فیصلے سامنے آگئے



اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)  پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے ان کی بہنوں نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ نے اہم ملاقات کی، جس کے بعد علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ "آج مائنس علیمہ خان، میری دونوں بہنوں کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت ملی۔"

علیمہ خان کے مطابق، ان کی بہنوں نے عمران خان سے شکوہ کیا کہ ان سے ایسی شخصیات ملاقات کر رہی ہیں جو پارٹی فہرست میں شامل نہیں ہیں اور پھر ان ملاقاتوں کی تفصیلات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس پر چیئرمین پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ انہوں نے کسی وی لاگر کی تعریف نہیں کی اور نہ ہی ایسا کوئی بیان دیا ہے، جو حالیہ دنوں میں ان کے حوالے سے منسوب کیا جا رہا ہے۔

مانسہرہ خاوند کو قتل کر کے نعش چھپانا مہنگا پڑ گیا، بڑی کاروائی 

عمران خان نے اپنی بہنوں کو یقین دہانی کرائی کہ ان کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ کسی طور غلط بیانی یا غلط استعمال کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت دی کہ بغیر اجازت کوئی بھی ان سے ملاقات نہ کرے اور نہ ہی کوئی شخص لسٹ سے باہر ملاقات کے لیے آئے۔

پارٹی پالیسی سے متعلق عمران خان نے دوٹوک موقف اپناتے ہوئے کہا کہ "کوئی بھی پالیسی میری منظوری کے بغیر نافذ نہیں ہوگی"۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں کوئی "مائنز اینڈ منزلز" بل پیش نہیں کیا جائے گا اور اپیکس کمیٹی میں بھی بغیر اجازت کوئی شرکت نہیں کرے گا۔

عمران خان نے علی امین گنڈا پور سے ملاقات نہ کرنے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "نواز شریف کی پوری کابینہ جیل اور لندن جاتی تھی، تو علی امین کیوں نہیں آتے؟" ساتھ ہی انہوں نے جنید اکبر کو تحریک پر توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت دی۔

پولیس اختیارات کا ناجائز استعمال

انتخابی عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کی تاکید کی اور الیکشن ٹریبونلز سے رجوع کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ "نہ کوئی ڈیل ہو رہی ہے، نہ کسی سے بات چیت جاری ہے۔"

عمران خان نے اپنی صحت کے حوالے سے بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈا پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ مکمل طور پر خیریت سے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ آج پولیس نے ارکانِ اسمبلی پر تشدد کیا، ان کے کپڑے پھاڑے گئے، جو جمہوریت کے لیے افسوسناک ہے۔

عمران خان نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے ساتھ جاری کشیدگی پر حکومت صرف "ڈرامہ بازی" کر رہی ہے اور اس معاملے میں سنجیدگی کا فقدان نظر آتا ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post