پاکستان کی سیاسی تاریخ ایک ایسے سفر کی عکاسی کرتی ہے جس میں جمہوریت اور آمریت کے درمیان کشمکش ہمیشہ جاری رہی۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت نے جہاں جمہوری اداروں کو کمزور کیا، وہیں اس نے انسانی حقوق کی پامالیوں کو بھی جنم دیا۔ سیاسی انتقام کا کلچر، ماورائے عدالت گرفتاریاں، جبری گمشدگیاں، میڈیا پر سنسرشپ اور عوامی آوازوں کا دبایا جانا، ان مظالم کی محض چند مثالیں ہیں۔
پاکستان میں سیاسی انتقام کا سلسلہ قیام پاکستان کے بعد سے ہی چلا آ رہا ہے۔ سیاسی مخالفین کو کرپشن، غداری، یا ملک دشمنی کے الزامات کے تحت نشانہ بنانا ایک عام روایت بن چکی ہے۔ مختلف ادوار میں منتخب وزرائے اعظم کو نااہل قرار دینا، جیلوں میں ڈالنا یا جلاوطن کرنا اس روش کا حصہ رہا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو ایک متنازعہ عدالتی فیصلے کے ذریعے سزائے موت دی گئی، بے نظیر بھٹو کو بار بار جلاوطن کیا گیا، نواز شریف کو تین بار وزارتِ عظمیٰ سے نکالا گیا، اور عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد ان کے حامیوں، کارکنوں اور قیادت کو جیلوں میں ڈالنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ تمام واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک میں طاقتور ادارے سیاسی فیصلوں کو متاثر کرتے ہیں اور سیاسی قیادت کو دبانے کے لیے عدالتی و غیر عدالتی ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں۔
فوج پاکستان میں خود کو محض ایک دفاعی ادارہ نہیں بلکہ ایک فیصلہ کن قوت سمجھتی آئی ہے۔ 1958 سے 2008 تک چار مرتبہ براہ راست مارشل لا نافذ کیے گئے، جبکہ باقی ادوار میں "پس پردہ حکومت" جاری رہی۔ فوج کی مداخلت نے سیاسی جماعتوں کو تقسیم، کمزور اور غیر مؤثر کر دیا۔ آج بھی الیکشنز میں دھاندلی کے الزامات فوجی اداروں پر لگتے ہیں۔ "سیلیکٹڈ" حکومتوں کی اصطلاح اس بات کا اشارہ ہے کہ عوامی نمائندوں کے فیصلے کسی اور کے اشاروں پر ہوتے ہیں۔ میڈیا، عدلیہ اور بیوروکریسی پر دباؤ ڈال کر مخصوص بیانیے کو فروغ دیا جاتا ہے۔
فوجی مداخلت اور سیاسی انتقام کی سب سے بڑی قیمت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی صورت میں عوام نے چکائی ہے۔ بلوچستان، خیبرپختونخوا، سندھ اور حتیٰ کہ پنجاب میں بھی درجنوں سیاسی کارکن، صحافی اور سماجی کارکن جبری طور پر لاپتا کیے گئے۔ نہ ان کے خلاف کوئی مقدمہ ہوتا ہے، نہ کوئی اطلاع۔ عدالتوں کے بارہا احکامات کے باوجود ریاستی ادارے جواب دہ نہیں ہوتے۔
صحافیوں کو اغوا کرنا، ٹی وی چینلز کو بند کرنا، یوٹیوب و دیگر پلیٹ فارمز پر پابندیاں، آزادیٔ اظہار پر حملے ہیں۔ سچ بولنے والوں کو "غدار" یا "ملک دشمن" قرار دینا معمول بن چکا ہے۔ انتقامی کارروائیوں کے لیے نیب، ایف آئی اے اور دیگر اداروں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ عدالتوں سے من پسند فیصلے لیے جاتے ہیں، جبکہ حقیقی انصاف کے تقاضے پسِ پشت ڈال دیے جاتے ہیں۔ سیاسی کارکنوں کے پر امن مظاہروں پر طاقت کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے۔ آنسو گیس، لاٹھی چارج، گرفتاریاں، حتیٰ کہ ماورائے عدالت قتل بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
اس مسلسل ظلم و جبر کے نتیجے میں عوام میں ریاستی اداروں پر اعتماد کمزور ہوا، جمہوریت کو نقصان پہنچا، ملک بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی نظر میں مشکوک ہوا، اور سیاسی پولرائزیشن نے معاشرے میں نفرت، بے یقینی اور افراتفری کو فروغ دیا۔
پاکستان کو اگر ایک مضبوط، پرامن اور ترقی یافتہ ریاست بنانا ہے تو فوج کو سیاست سے باہر نکالنا، انسانی حقوق کا احترام اور سیاسی انتقام کا خاتمہ لازمی ہے۔ ایک ایسا پاکستان ممکن ہے جہاں ہر فرد کو اپنی بات کہنے، اپنے حقوق مانگنے اور اپنی قیادت چننے کا حق حاصل ہو بغیر کسی خوف کے۔
