TM-4 News
لوڈ ہو رہا ہے...
TM-4 NEWS
اسلامی تاریخ لوڈ ہو رہی ہے...

کالے ریچھ پر ظلم، پاکستان کے جنگلات میں قدرتی حیات کا خاتمہ


کالا ریچھ انسانی تماشے کا شکار

پاکستان کے شمالی جنگلات، خصوصاً ہمالیہ اور ہندوکش کی برف سے ڈھکی وادیوں میں کالا ریچھ ایک خاموش قدرتی خزانے کی مانند پایا جاتا ہے۔ یہ جانور نہ صرف ماحولیات کے توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے بلکہ اپنی معصومیت، فطری خوبصورتی اور ماں کی ممتا سے بھرپور طرزِ زندگی کی وجہ سے انسان کے دل کو چھو لینے والا ہے۔


مادہ کالا ریچھ اپنے بچوں سے بے پناہ محبت کرتی ہے۔ وہ کئی دنوں تک اپنے نونہالوں کو اپنی گرم آغوش میں چھپائے رکھتی ہے، جب تک کہ وہ اپنی آنکھیں کھولنے کے قابل نہ ہو جائیں۔ اس دوران وہ خود بھوک پیاس برداشت کرتی ہے، مگر اپنی اولاد کو تنہا نہیں چھوڑتی۔ یہ محبت اگر انسان کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی نہ ہو تو پھر شاید کچھ بھی نہیں۔


افسوس کہ انسان کی لالچ، سفاکی اور خودغرضی نے اس محبت بھرے رشتے کو بھی ظلم کی انتہا میں بدل دیا ہے۔ مقامی افراد محض چند پیسوں کے عوض شکاریوں کو ریچھ کے ٹھکانے بتا دیتے ہیں۔ شکاری موقع پا کر مادہ ریچھ کو گولی مار دیتے ہیں، اور اس کے ڈرے، سہمے ہوئے معصوم بچوں کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ یوں وہ اذیت کا سفر شروع ہوتا ہے جسے بیان کرنا بھی انسانیت کے لیے شرم کا مقام ہے۔


ان معصوم بچوں کو گرم توے پر کھڑا کر کے چھڑیوں سے مارا جاتا ہے تاکہ وہ درد کو یاد رکھیں۔ ہر بار جب چھڑی اٹھتی ہے، وہ توا یاد آتا ہے، اور وہ "ناچنے" لگتے ہیں۔ یہ دراصل درد کا فطری ردعمل ہے، نہ کہ کوئی فن یا تفریح۔ بعد میں ان کے ناخن اور دانت نکال دیے جاتے ہیں تاکہ وہ اپنے دفاع کے قابل نہ رہیں۔ ان کی ناک میں سوراخ کر کے نکیل ڈالی جاتی ہے تاکہ وہ ہمیشہ کے لیے غلام بن جائیں۔


یہ بے زبان جانور پھر سڑکوں، میلوں، چوراہوں اور گلیوں میں تماشے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ لوگ تالیاں بجاتے ہیں، قہقہے لگاتے ہیں، اور کوئی کیلا یا روٹی ڈال دیتا ہے۔ مگر اس کی فطری آزادی، اس کا سکون، اس کا قدرتی ماحول اور اس کا وقار چھن جاتا ہے۔ جو ریچھ برفیلے علاقوں کا باسی ہے، وہ اب دھوپ میں ہانپتا ہے، شور میں کانپتا ہے، اور انسانوں کے تماشے کے لیے ناچتا ہے۔


افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ آج کالا ریچھ پاکستان کے جنگلات سے تقریباً ناپید ہو چکا ہے۔ اس کی نسل تیزی سے ختم ہو رہی ہے، اور اس کا ذمہ دار صرف انسان ہے۔ ہماری خاموشی، بے حسی اور خودغرضی اس جانور کو نیست و نابود کر رہی ہے۔


اب وقت ہے کہ ہم اپنی ذمے داری محسوس کریں۔ تماشہ دکھانے والوں کو پیسے نہ دیں۔ ان کی حوصلہ شکنی کریں۔ بچوں کو سکھائیں کہ جانور تماشا نہیں، جاندار ہوتے ہیں۔ حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ سخت قوانین بنائے اور ان پر عملدرآمد یقینی بنائے۔ سماج میں بیداری پیدا کریں کہ یہ ظلم بند ہو ورنہ فطرت کا انتقام کسی دن بہت بھیانک صورت اختیار کر سکتا ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post