TM-4 News
لوڈ ہو رہا ہے...
TM-4 NEWS
اسلامی تاریخ لوڈ ہو رہی ہے...

کیا واقعی سونا مہنگا ہو رہا ہے، یا روپیہ سستا ہو رہا؟ اک نیا زاویہ سوچ


کیا سونا مہنگا ہو رہا ہے یا روپیہ سستا ہو رہا ہے۔ مثال کے لیے تصویر

اکثر ہم سنتے ہیں کہ "گولڈ کی قیمتیں دن بدن بڑھتی جارہی ہیں۔" لیکن کیا یہ سچ ہے؟ یا ہم ایک بنیادی حقیقت کو نظر انداز کر رہے ہیں؟ آئیے اس معاملے کو ایک مختلف زاویے سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

سچ یہ ہے کہ سونے کی قیمت نہیں بڑھ رہی، بلکہ ہماری کرنسی کی قدر مسلسل گر رہی ہے۔ گولڈ یعنی سونا اپنی ویلیو کے اعتبار سے ہمیشہ ایک مستحکم اور قیمتی دھات رہا ہے، جس کی قدروقیمت صدیوں سے قائم ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم جس کرنسی میں قیمتوں کا حساب کرتے ہیں، وہ خود اپنی وقعت کھوتی جارہی ہے۔

دنیا بھر کی حکومتیں اپنی معیشتوں کو چلانے کے لیے مسلسل نوٹ چھاپ رہی ہیں۔ جب کاغذی کرنسی کی فراوانی کی جاتی ہے تو وہی "ڈیمانڈ اور سپلائی کا قانون" حرکت میں آتا ہے — جس چیز کی سپلائی بڑھتی ہے، اس کی قدر خود بخود کم ہو جاتی ہے۔ یہی عمل جب کرنسی کے ساتھ ہوتا ہے تو اسے ہم "انفلیشن" یعنی مہنگائی کہتے ہیں، لیکن اصل میں یہ کرنسی کی گرتی ہوئی قیمت کا نام ہے۔

عام انسان یہ سوچتا ہے کہ چیزیں مہنگی ہوگئی ہیں، لیکن اسے یہ سمجھ نہیں آتی کہ وہ ہزار روپے جو اس نے ایک سال پہلے کمائے تھے، آج بھی دیکھنے میں ہزار کے ہی لگتے ہیں — مگر ان کی خریداری کی طاقت (purchasing power) کافی کم ہو چکی ہوتی ہے۔ اس غلط فہمی کو حکومتیں اور مالیاتی ادارے خوب فروغ دیتے ہیں تاکہ اصل مسئلے سے توجہ ہٹائی جا سکے۔

جب ہم روز مہنگائی کا رونا روتے ہیں، تو ہم نہ صرف خود کو مایوس کرتے ہیں بلکہ اپنے بچوں کے ذہنوں میں بھی یہ تاثر بٹھا دیتے ہیں کہ "اشیاء کی قیمتیں بلاوجہ بڑھ رہی ہیں۔" یہ سوچ دراصل حکومتوں کے بیانیے کو مضبوط کرتی ہے، جو چاہتی ہیں کہ عوام کرنسی کے اصل بحران سے ناواقف رہیں۔

اپنے بچوں کو یہ سکھائیں کہ اشیاء و اجناس مہنگی نہیں ہوتیں، بلکہ کرنسی کی بےقدری ان اشیاء کو بظاہر مہنگا کر دیتی ہے۔ یہ چھوٹا سا فرق نہ صرف مالیاتی شعور کا دروازہ کھولتا ہے بلکہ ان کے سوچنے کا انداز بدل سکتا ہے۔

سونے کی قیمتیں نہیں بڑھ رہیں، بلکہ ہماری کرنسی کی قدر کم ہو رہی ہے۔ اگر ہم اس نکتے کو سمجھ جائیں، تو ہم مہنگائی کے مسئلے کو صحیح تناظر میں دیکھنے لگیں گے۔ اور جب ہم خود سمجھیں گے تو اپنی نسل کو بھی درست سمت میں مالیاتی تربیت دے سکیں گے۔

یاد رکھیں: فنانشل لٹریسی کا پہلا سبق یہی ہے کہ "کیا سستا ہو رہا ہے، اور کیا مہنگا؟"

تحریر: شہزاد حسین کراچی 

Post a Comment

Previous Post Next Post