دنیا میں طاقت کا پیمانہ صرف ہتھیار، افواج یا معیشت نہیں ہوتا بلکہ یہ جذبہ، نظریہ اور مزاحمت کی صلاحیت سے بھی جُڑا ہوتا ہے۔ جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ایران ختم ہو چکا، وہ شاید تاریخ سے نابلد ہیں۔ ایران، صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے؛ ایک ایسی قوم جو زخم کھا کر بکھرتی نہیں، سنبھلتی ہے اور پھر زیادہ مضبوطی سے ابھرتی ہے۔
1980 کی دہائی میں ایران پر صدام حسین کے ذریعے جنگ مسلط کی گئی۔ امریکہ، خلیجی ریاستیں اور مغربی بلاک کی خاموش یا کھلی حمایت کے ساتھ صدام نے کیمیکل ہتھیاروں تک کا استعمال کیا۔ ہزاروں ایرانی شہری اور فوجی شہید ہوئے، لیکن ایران جھکا نہیں۔ اُس دور کی سب سے بڑی علامت ایرانی مائیں بنیں جنہوں نے اپنے نو عمر بچوں کو "امام ضامن" باندھ کر بندوق تھمائی اور محاذِ جنگ کی طرف رخصت کیا۔ یہ واقعہ آج بھی ایرانی جذبے اور استقلال کی داستان سناتا ہے۔
ایران پر کئی دہائیوں سے سخت ترین عالمی پابندیاں عائد ہیں۔ اس کے باوجود، وہ ایک فنکشنل اسٹیٹ کے طور پر نہ صرف باقی ہے، بلکہ خطے میں ایک موثر اور خودمختار کردار بھی ادا کر رہا ہے۔ اس کی ایئر فورس بلاشبہ جدید دنیا کے مقابلے میں پرانی ہے، لیکن ایران نے دفاعی صلاحیتوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ملانے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ایرانی نیوی کی اسپیڈ بوٹس، جنہیں عام آنکھ کم تر سمجھتی ہے، خلیج فارس جیسے حساس ترین سمندری راستے کو ساٹھ سیکنڈ میں بند کر دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ بات امریکہ اور نیٹو افواج بھی تسلیم کر چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کو مکمل طور پر غیر فعال کرنا دنیا کی طاقتور ترین فوجی اتحادوں کے لیے بھی آسان نہیں۔
اسرائیل کی پالیسی ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ وہ خطے میں کسی اور ملک کو ایٹمی طاقت بنتے نہیں دیکھ سکتا۔ عراق میں صدام کا نیوکلئر پروگرام، شام میں ریکٹر کی تعمیر اور اب ایران کا جوہری منصوبہ ان تمام پر اسرائیل نے حملے کیے یا سفارتی و اقتصادی دباؤ ڈال کر انہیں روکنے کی کوشش کی۔ ایران کے خلاف بھی یہی کھیل جاری ہے۔ لیکن ایران، عراق یا شام نہیں۔ اس کے پاس عسکری و تزویراتی حکمتِ عملی بھی ہے اور نظریاتی قوت بھی۔ اسرائیل اگر آل آؤٹ وار کی طرف نہیں جا رہا تو اس کی ایک بڑی وجہ ایران کا وہ داخلی دفاعی نظام ہے جو کسی بھی حملے کا مؤثر جواب دینے کی طاقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتیں جانتی ہیں کہ ایران اگر مکمل طور پر تباہ یا غیر مؤثر ہو جاتا ہے تو مشرق وسطیٰ میں توازنِ طاقت شدید بگڑ جائے گا۔ شیعہ سنی کشیدگی کو انتہا پسند عناصر مزید ہوا دے سکتے ہیں، اور علاقائی ریاستیں نیٹو کے کنٹرول سے باہر جا سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بظاہر دشمن ہونے کے باوجود، مغرب ایران کو مکمل جنگ کی طرف دھکیلنے سے گریز کرتا ہے۔
سوال صرف یہ نہیں کہ اسرائیل کیا چاہتا ہے، سوال یہ بھی ہے کہ اب ایران کیسے ردعمل دیتا ہے۔ وہ صرف بیان بازی کرے گا یا پھر محدود، غیر روایتی حملے کرے گا؟ کیا وہ اپنے اتحادی نیٹ ورک جیسے حزب اللہ، حوثی یا عراقی ملیشیاز کے ذریعے ردعمل دے گا یا براہ راست کسی بڑی کارروائی کی طرف جائے گا؟ دنیا کی نگاہیں اب تہران پر ہیں۔
ایران نہ کل جھکا تھا، نہ آج جھکے گا۔ اس کے وجود کو مٹانے والے شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ قومیں بموں سے نہیں، حوصلے سے بنتی ہیں۔ ایران کی تاریخ، اس کی ثقافت، اور اس کی قربانیوں کا وزن کسی بھی حملہ آور طاقت سے زیادہ بھاری ہے۔ اس لیے لکھ لیجیے ایران باقی ہے، اور رہے گا۔
