پنجاب میں مون سون کی تباہ کاریاں، بارش کے پہلے جھونکوں نے قیامت برپا کر دی
راولپنڈی (نمائندہ خصوصی) مون سون کا آغاز ہی پنجاب کے باسیوں کے لیے آفت بن کر آیا۔ آسمان سے برستی بارش نے زمین پر ہنگامہ برپا کر دیا۔ صرف دو روز کے اندر صوبے بھر میں 66 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جن میں معصوم بچے، خواتین، مزدور اور بزرگ شامل ہیں۔ لاہور، راولپنڈی، چکوال، اسلام آباد، گوجرانوالہ، جہلم، گجرات، اوکاڑہ، ساہیوال، منڈی بہاؤالدین اور ڈیرہ غازی خان کے علاوہ کئی چھوٹے بڑے شہر اور ان کے نواحی علاقے پانی کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔
کچی بستیوں، نچلے علاقوں، بازاروں، اور رہائشی سڑکوں پر نہ صرف پانی کھڑا ہو گیا ہے بلکہ بعض جگہوں پر تو لوگوں کے گھر ہی بہہ گئے۔ لاہور کے مزنگ، چوبرجی، وحدت روڈ اور بند روڈ جھیل کا منظر پیش کرنے لگے۔ گلیوں میں پیدل چلنا محال ہو گیا۔ شہری اپنے قیمتی سامان کو بچانے کے لیے خود بھی پانی میں کود پڑے، مگر کئی جگہوں پر نہ وقت تھا اور نہ ہی کوئی بچانے والا۔
راولپنڈی میں تباہی کی شدت دوگنی محسوس کی گئی۔ سواں دریا اپنے عروج پر پہنچا، پانی نالہ لئی سے نکل کر قریبی آبادیوں میں داخل ہو گیا۔ ڈھوک حسو، گورکھ پور، مریڑ حسن، صادق آباد اور ڈھوک سیداں جیسے علاقے مکمل طور پر متاثر ہوئے۔ گورکھ پور گاؤں، جو پہلے ہی بنیادی سہولیات سے محروم تھا، وہاں کی گلیاں ندیوں میں تبدیل ہو گئیں، لوگ چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔ بچے، بوڑھے اور خواتین رات بھر پانی میں پھنسے رہے۔
کسانوں پر تو جیسے قہر ٹوٹا۔ ساہیوال، اوکاڑہ، اور منڈی بہاؤالدین جیسے زرعی علاقے، جہاں چاول، مکئی، اور سبزیوں کی فصلیں کھڑی تھیں، وہ سب پانی میں بہہ گئیں۔ ہزاروں کسانوں کا سال بھر کا محنتانہ لمحوں میں ضائع ہو گیا۔ دوسری جانب، شہری علاقوں میں دکانیں اور گودام تباہ ہو گئے۔ مارکیٹیں بند، سامان خراب، کاروبار ٹھپ، اور لوگوں کے چہرے مایوسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔
اسلام آباد اور راولپنڈی کے کئی علاقوں میں بجلی کا نظام بھی معطل ہو چکا ہے۔ کئی گھروں میں پانی کے ساتھ کرنٹ بھی دوڑ گیا، جس سے مزید جانیں ضائع ہوئیں۔ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ ریسکیو ٹیمیں، مقامی انتظامیہ اور بعض جگہوں پر پاک فوج بھی امدادی کاموں میں مصروف ہیں، لیکن بارش کے تسلسل اور وسائل کی قلت نے ہر کوشش کو ناکام سا بنا دیا ہے۔
حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ تمام ادارے فعال ہیں، لیکن سوشل میڈیا پر متاثرین نے حکومتی نااہلی پر سخت تنقید کی ہے۔ کئی جگہوں پر نہ خوراک میسر ہے، نہ صاف پانی، اور نہ ہی پناہ کی کوئی محفوظ جگہ۔ لوگ اپنے بچوں کو لے کر محفوظ مقامات کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔
محکمہ موسمیات نے آئندہ 48 گھنٹوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، جس سے صورتحال مزید خطرناک ہو سکتی ہے۔ شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ نشیبی علاقوں سے دور رہیں، اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اطلاع دیں۔