TM-4 News
لوڈ ہو رہا ہے...
TM-4 NEWS
اسلامی تاریخ لوڈ ہو رہی ہے...

ملکی تاریخ میں پہلی بار 50 فیصد کپاس کی فیکٹریاں غیر فعال، روئی کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی، کسان اور مزدور شدید مشکلات کا شکار


پاکستان کی 78 سالہ تاریخ میں پہلی بار کپاس کی صنعت شدید بحران سے دوچار ہے۔ پنجاب کے کاٹن بیلٹ میں قائم نصف یعنی تقریباً 50 فیصد فیکٹریاں روئی فروخت نہ ہونے اور قیمتوں میں ریکارڈ کمی کے باعث بند یا غیر فعال ہو چکی ہیں۔ اس بحران نے براہِ راست لاکھوں کسانوں، مزدوروں اور برآمدات پر انحصار کرنے والی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو متاثر کیا ہے۔

کپاس کی اہمیت اور موجودہ بحران
پاکستان دنیا کے بڑے کپاس پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق:

قومی برآمدات میں ٹیکسٹائل سیکٹر کا حصہ 60 تا 65 فیصد ہے۔

کپاس کی سالانہ پیداوار ماضی میں ایک کروڑ 20 لاکھ گانٹھوں (bales) تک ریکارڈ کی گئی۔

لیکن رواں سال پیداوار میں کمی اور روئی کی مانگ گھٹنے سے صورتحال پہلے سے زیادہ خطرناک ہو گئی ہے۔


روئی کی قیمتوں میں کمی: اعداد و شمار

گزشتہ برس روئی کی فی من اوسط قیمت 9,000 تا 10,500 روپے رہی تھی۔

رواں سال قیمت گر کر 6,500 تا 7,000 روپے فی من رہ گئی ہے۔

عالمی منڈی میں بھی روئی کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے، لیکن پاکستان میں اضافی بحران اس وجہ سے ہے کہ ٹیکسٹائل فیکٹریاں اپنی صلاحیت کے مطابق خریداری نہیں کر رہیں۔


فیکٹریوں کی بندش اور مزدور متاثر
پنجاب کے جنوبی اضلاع (ملتان، بہاولپور، خانیوال، رحیم یار خان، وہاڑی اور لودھراں) جہاں کپاس کی سب سے بڑی فصل ہوتی ہے، وہاں نصف سے زائد جننگ فیکٹریاں بند پڑی ہیں۔

ان فیکٹریوں میں کام کرنے والے ہزاروں مزدور بیروزگار ہو گئے ہیں۔

مزدور یونینز کے مطابق صرف جنوبی پنجاب میں ہی تقریباً 2 لاکھ افراد براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔


کسانوں کا خسارہ
کپاس کے کاشتکاروں نے اس بار فی ایکڑ اوسطاً 70 سے 90 ہزار روپے لاگت برداشت کی، جس میں بیج، کھاد، پانی اور ڈیزل کے اخراجات شامل ہیں۔

لیکن فروخت نہ ہونے اور قیمتوں میں کمی کی وجہ سے کسانوں کو فی ایکڑ 30 سے 40 ہزار روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

گزشتہ پانچ برسوں میں کپاس کی کاشت پہلے ہی 35 فیصد کم ہو چکی ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ برس کاشت مزید گھٹ سکتی ہے۔


گزشتہ برسوں کا تقابلی جائزہ

2014-15: کپاس کی پیداوار ایک کروڑ 39 لاکھ گانٹھوں تک پہنچ گئی تھی۔

2019-20: یہ پیداوار کم ہو کر 86 لاکھ گانٹھوں تک محدود رہ گئی۔

2022-23: سیلاب اور موسمی اثرات کے باعث پیداوار مزید گر کر 54 لاکھ گانٹھوں تک جا پہنچی۔

2024-25 (موجودہ سال): ابتدائی تخمینوں کے مطابق پیداوار 80 لاکھ گانٹھوں تک جا سکتی تھی، مگر فیکٹریوں کی بندش اور طلب کی کمی نے اس سیکٹر کو بحران میں دھکیل دیا ہے۔


ماہرین اور صنعتکاروں کی آراء
ماہرین معاشیات اور ٹیکسٹائل ایسوسی ایشن کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ:

اگر حکومت نے فوری طور پر سپورٹ پرائس مقرر نہ کی تو کپاس کی کاشت آنے والے سالوں میں مزید کم ہو جائے گی۔

ٹیکسٹائل انڈسٹری پہلے ہی توانائی بحران، بلند شرح سود اور ڈالر کی کمیابی کے باعث دباؤ میں ہے۔

برآمدات میں کمی کے باعث پاکستان کو صرف 2024 میں ہی تقریباً 2 ارب ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔


حکومت کے لیے چیلنج
ابھی تک حکومت کی طرف سے اس بحران پر کوئی جامع پالیسی سامنے نہیں آئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو کپاس کی صنعت، جو پاکستان کی معیشت کی بنیاد ہے، مکمل طور پر بیٹھ سکتی ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post