پاکستان کی تاریخ ایک تلخ حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ اس ریاست کے قیام کے فوراً بعد ہی بانیانِ پاکستان کے ساتھ رویہ وہ نہ رہا، جس کی امید ایک آزاد مملکت کے معمار رکھتے تھے۔ قائداعظم محمد علی جناح، جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست کی بنیاد رکھی، اپنی زندگی کے آخری ایام میں ریاستی اداروں کی بے حسی کا شکار بنے۔ ان کی علالت کے دوران مناسب علاج اور سہولیات نہ فراہم کی گئیں، یہاں تک کہ ان کی موت کو بھی کئی سوالوں نے گھیر لیا۔
قائداعظم کی وفات کے بعد ان کی بہن مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کو جس ذلت اور تحقیر کا سامنا کرنا پڑا، وہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ جب انہوں نے فوجی آمریت کے مقابلے میں جمہوریت اور عوامی بالادستی کی بات کی، تو ریاستی مشینری نے انہیں غدار اور ملک دشمن قرار دے دیا۔ ان کے ساتھ کھڑے ہونے والے سیاست دانوں کو بھی غداری کے طعنے دیے گئے۔ یہ وہی وقت تھا جب طاقت کے اصل مراکز نے اپنا اصل چہرہ دکھانا شروع کیا اور سویلین بالادستی کا خواب بار بار روند ڈالا گیا۔
اسی کشمکش کا نتیجہ تھا کہ پاکستان دو لخت ہوا اور مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔ مگر ستم یہ ہے کہ تاریخ کے اس بڑے سانحے سے بھی اداروں نے سبق نہ سیکھا۔ ہر اس لیڈر کو، جس نے سویلین بالادستی کا نعرہ بلند کیا، یا تو راستے سے ہٹا دیا گیا یا زبان بند کرنے پر مجبور کیا گیا۔
عمران خان نے بھی اسی روایت کو توڑنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کھل کر اس نظام کو چیلنج کیا جو دہائیوں سے سامراجی تسلط اور غیرجمہوری طاقتوں کے زیر اثر ہے۔ ان کی حکومت گرا دی گئی، ان پر قاتلانہ حملہ ہوا، اور جب وہ بچ نکلے تو ان پر سینکڑوں مقدمات بنا کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا۔ ان سب اقدامات نے یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان میں اصل طاقت اب بھی عوامی نمائندوں کے پاس نہیں بلکہ ان طاقتور اداروں کے پاس ہے جو سویلین بالادستی کو اپنی بقا کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔
آج یہ نفرت اس حد تک جا پہنچی ہے کہ بانی پاکستان محمد علی جناح کی تصویریں تک یومِ آزادی کے سرکاری اشتہارات سے غائب کر دی گئیں۔ یہ اقدام دراصل اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو اپنی تاریخ، اپنے محسنوں اور اپنے ہی خالق کو پس پشت ڈالنے پر تُلی ہوئی ہے۔
پنجاب پولیس کا تازہ عمل اس نفرت کا عملی اظہار ہے۔ جب تحریک انصاف کے کارکنان قائداعظم کی تصویر لے کر ان کے احسان کو یاد کرنے اور خراجِ تحسین پیش کرنے نکلے تو ریاستی طاقت نے ان پر بھی وار کیا۔ پولیس کی گاڑی نے بانی پاکستان کی تصویر اٹھائے موٹر سائیکل کو ٹکر مار کر زمین بوس کر دیا۔ یہ صرف ایک حادثہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس ذہنیت کا عکاس ہے جو پاکستان کی بنیاد رکھنے والے لیڈر کو بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں۔
سوال یہ ہے کہ آخر اس ملک کے ساتھ یہ ناانصافی کب تک جاری رہے گی؟ کیا سویلین بالادستی کا خواب ہمیشہ مصلحتوں، سازشوں اور طاقت کے مراکز کی انا کی بھینٹ چڑھتا رہے گا؟ کیا اس قوم کو کبھی وہ دن دیکھنا نصیب ہو گا جب عوامی مینڈیٹ کو اصل طاقت سمجھا جائے اور بانیانِ پاکستان کو وہ مقام دیا جائے جس کے وہ حق دار ہیں؟
آج وقت کا تقاضا ہے کہ قوم تاریخ سے سبق سیکھے۔ جو غلطی مادر ملت کے ساتھ ہوئی، جو ظلم مشرقی پاکستان پر ہوا، جو زیادتی ہر اس لیڈر کے ساتھ کی گئی جس نے عوامی بالادستی کی بات کی، ان سب کو یاد رکھ کر اب راستہ بدلنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ یہ قوم ہمیشہ اپنے ہی بانیان کی تذلیل کے بوجھ تلے دب کر زندہ رہے گی۔
محمداشرف
