راولپنڈی ائیرپورٹ روڈ پر واقع ڈھوک حافظ کی ایک ایسی شخصیت جنہیں لوگ محبت سے سائیں لالا کے نام سے پکارتے تھے، اس فانی دنیا کو چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گئے۔ سائیں لالا ایک ملنگ مزاج، بے تکلف اور دنیاوی نمود و نمائش سے مکمل بے نیاز انسان تھے۔ ساری زندگی انہوں نے انتہائی سادہ طرزِ زندگی اختیار کیے رکھا۔ اکثر انہیں صرف ایک چادر اوڑھے، سر جھکائے اپنے مخصوص انداز میں گلیوں اور بازاروں میں گھومتے ہوئے دیکھا جاتا تھا۔ نہ کوئی دنیاوی لالچ نہ خواہشات کا بوجھ۔ ان کی خاموشی میں بھی ایک عجیب کشش اور ان کی موجودگی میں ایک انوکھی گہرائی تھی۔
اسٹنگ بوتل نشہ، زہر یا وقتی جوش؟ جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
علاقے کے بزرگ اور نوجوان سب انہیں اپنے دلوں میں ایک جداگانہ مقام دیتے تھے۔ سائیں لالا کو ہر کوئی جانتا تھا، لیکن ان کے بارے میں کوئی حتمی بات کبھی سامنے نہ آتی۔ وہ کم گو تھے لیکن ان کے چہرے کی معصوم مسکراہٹ اور نگاہوں میں جھلکتی بے نیازی ہر دیکھنے والے کو کچھ لمحوں کے لیے روک لیتی تھی۔ وہ اپنی ذات میں ایک مکمل دنیا تھے، کسی سے مانگے بغیر اور کسی کے محتاج ہوئے بغیر زندگی گزارتے رہے۔ ان کا یہ صوفیانہ اور ملنگانہ انداز ان کی شناخت بن چکا تھا۔
سائیں لالا کی نمازِ جنازہ کل 28اکتوبر2025 دوپہر 2 بجے ڈھوک حافظ اسٹاپ پر ادا کی جائے گی۔ جہاں ان سے محبت رکھنے والے، ان کے احترام میں سر جھکانے والے، اور ان کے ملنگانہ مزاج سے متاثر لوگ بڑی تعداد میں شریک ہوں گے۔
آج ڈھوک حافظ، چکلالہ اور شاہ خالد کالونی ایک ایسے انسان سے محروم ہو گئے ہیں جو دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا سے بے خبر دکھائی دیتے تھے۔ ان کی سادگی، بے نیازی اور منفرد طرزِ زیست ہمیشہ لوگوں کی یادوں میں زندہ رہے گی۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور ان کی آخرت کی منزل آسان فرمائے۔ آمین۔
