گوجری بن گئی خیبرپختونخوا اسمبلی کی چھٹی سرکاری زبان
پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی نے اہم تاریخی پیش رفت کرتے ہوئے گوجری زبان کو صوبے کی چھٹی آفیشل زبان کا درجہ دے دیا ہے۔ اس فیصلے سے نہ صرف گوجری بولنے والی برادری کی دیرینہ خواہش پوری ہوئی ہے بلکہ صوبے کی لسانی و ثقافتی تنوع کے فروغ کی جانب بھی ایک بڑا قدم اٹھایا گیا ہے۔
اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے اس موقع پر تمام گوجری بولنے والوں اور اس زبان سے محبت کرنے والوں کو دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ گوجری زبان صدیوں پر محیط تاریخ، ادب اور تہذیب کی حامل زبان ہے جو بالخصوص گوجر برادری کے تشخص اور ثقافتی ورثے کی آئینہ دار ہے۔ حکومت اس زبان کے فروغ، نصاب میں شمولیت، اور سرکاری سطح پر اس کے استعمال کے لیے عملی اقدامات اٹھائے گی۔
گوجری زبان خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع خصوصاً مانسہرہ، بالاکوٹ، ایبٹ آباد، بٹگرام، بونیر، سوات، چترال، اور کوہستان سمیت کئی علاقوں میں بولی جاتی ہے۔ لسانی ماہرین کے مطابق گوجری کا شمار برصغیر کی قدیم زبانوں میں ہوتا ہے جو راجستھان، کشمیر اور پنجاب سمیت جنوبی ایشیا کے وسیع حصوں میں بھی بولی اور سمجھی جاتی ہے۔
گوجری کو سرکاری زبان کا درجہ ملنے کے بعد توقع ہے کہ نصابی کتب کی تیاری، میڈیا میں نمائندگی، اور ثقافتی پروگراموں کے انعقاد کے ذریعے اس زبان کی ترقی اور نئی نسل میں اس کے فروغ کے مواقع بڑھیں گے۔ مقامی آبادی نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے گوجروں کی سماجی شناخت کے استحکام کے لیے سنگ میل قرار دیا ہے۔
گوگل فارم بنانے، شیٹ سے لنک کرنے، فارم فل کرنے اور رزلٹ تک کا مکمل طریقہ جاننے کے لیے نیچے دیے گے ویڈیو کے تھمبنل پر کلک کریں۔

