وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ حکومت توہین مذہب سے متعلقہ مقدمات میں قانون کے غلط استعمال کو روکنے اور بروقت انصاف کو یقینی بنانے کے لیے procedural safeguards متعارف کروا رہی ہے۔ یقیناً یہ قدم بھی عالمی دباؤ کا نتیجہ ہے ۔
پاکستان میں توہین مذہب کے قوانین کو جس انداز سے ڈیزائن کیا گیا ہے اس میں یہ قباحت رہ گئی ہے کہ کوئی بھی شخص ذاتی عناد کی بنیاد پہ کسی پہ بھی توہین مذہب کا الزام لگا دیتا ہے اور کسی کی گواہی پر اسے مجرم بھی ٹھہرا لیا جاتا ہے۔ اب تک پاکستان میں توہین مذہب کے سینکڑوں مقدمات بنے ہیں اور اس وقت بھی 600 سے زائد لوگ ملک کی مختلف جیلوں میں موجود ہیں مگر ہر بار مختلف کیسز میں ایک ہی بات سامنے آئی ہے کہ ذاتی عناد ، مفادات یا انتقام کی بنیاد پر لوگوں کے خلاف ایسی گواہیاں آتی رہی ہیں ۔
پاکستان میں تو توہین عدالت کے قوانین کے غلط استعمال کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ انجینیئر محمد علی مرزا پر بھی توہین مذہب کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔ حساسیت کا عالم تو یہ ہے کہ ان قوانین میں ترامیم کا مطالبہ کرنے والے سلمان تاثیر کو تو ان کے اپنے ہی باڈی گارڈ نے گستاخ قرار دے کر قتل کر دیا تھا۔ ساڑھے چار سو سے زائد مسلم نوجوان جوان بمع حفاظ کرام تو ایک مخصوص گینگ کا شکار ہوئے ہیں ۔ اقلیتیوں کے خلاف بھی سینکڑوں کیسز میں صرف ذاتی عناد سامنے آیا ہے۔
ان قوانین میں دوسری قباحت یہ موجود ہے کہ توہین مذہب کے جھوٹے الزام لگانے والوں کے خلاف کسی قسم کی کوئی کاروائی نہیں ہوتی۔
تیسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان قوانین کے تحت سزا سنانے کا معاملہ بھی کافی طویل المدتی ہے۔ بیگناہ بھی یہاں لمبے عرصے تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہتا ہے جیسے آسیہ مسیح کی زندگی کے آٹھ قیمتی سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزرے۔ اسی دوران ملزم کا خاندان بھی معاشرتی سزا بھگت رہا ہوتا ہے جبکہ اگر کوئی واقعی گنہگار ہے تو بھی بروقت انصاف نہیں ہو پاتا۔
سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس طرح کے کیسز میں پولیس سے لیکر عدالت تک سب عوامی پریشر کا شکار نظر آتے ہیں۔ ایسے میں عوامی دباؤ پہ بیگناہوں کو دھر لیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب جھوٹی شکایت درج کروانے والے کے خلاف کسی کاروائی کا تصور بھی نہیں ۔
اس حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے ان قوانین میں ترامیم ضروری ہیں۔ چند مذہبی جماعتوں کی تو سیاست ہی ان قوانین یا خواتین کے حق میں بننے والے قوانین کی مخالفت سے جڑی ہے جس میں جمعیت سرفہرست نظر آتی ہے۔ ٹرانسجیڈر ایکٹ پہ بھی انھوں نے بے بنیاد واویلا کیا تھا ۔ اس لیے اس معاملے کو پارلیمان میں لانا ضروری ہے تاکہ قوم تک حقائق پہنچ سکیں اور ختم نبوت کے نام پہ ان قوانین میں ہونے والی ضروری ترامیم کے راستے میں رکاوٹ بننے والوں کا پروپیگنڈہ بھی بے نقاب ہو۔
اب آتے ہیں اس بات پہ کہ کیا procedural safeguards شامل کیے جانے چاہیں۔
سب سے پہلے ایف آئی آر سے قبل مجسٹریٹ یا اعلیٰ پولیس افسر (ایس ایس پی یا اس کے مساوی رینک) کی زیر نگرانی ایک ابتدائی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جائے جو الزامات کی prima facie سچائی اور محرکات کی جانچ کرے۔
تفتیشی افسر کے لیے یہ لازمی قرار دیا جائے کہ وہ مقدمے کے اصل محرکات کی جامع تحقیقات کرے۔ کیا کوئی جائیداد کا تنازع، ذاتی رنجش یا مالی جھگڑا تو شامل نہیں؟ اگر الزامات جھوٹے پائے جائیں تو شکایت کنندہ کے خلاف سخت دفعہ 182 یا 211 کے تحت کاروائی کی جائے۔
شہادتوں کے جمع کرنے کے لیے سخت Guidelines جاری کی جائیں۔ خاص طور پر توہین رسالت کے سنگین جرم کے لیے گواہی کے بجائے ٹھوس، تکنیکی یا فرانزک ثبوت کو مقدمے کا حصہ بنانا لازم ہو۔ صرف زبانی گواہی کو کافی نہ سمجھا جائے۔
توہین مذہب کا جھوٹا الزام ثابت ہونے پر شکایت کنندہ کو نہ صرف بھاری جرمانہ عائد کیا جائے بلکہ ملزم کو سنائی جانے والی سزا کے برابر قید کی سزا بھی دی جائے۔
جھوٹے الزامات کی حوصلہ شکنی کے لیے شکایت کنندہ کی گمنامی ختم کی جائے تاکہ وہ اپنے بیان کی پوری ذمہ داری قبول کرے۔
توہین مذہب کا مقدمہ صرف متاثرہ شخص یا اس کے خاندان کی بجائے صرف ریاستی اہلکار مثلاً ضلعی پبلک پراسیکیوٹر یا اسسٹنٹ کمشنر کی مہر تصدیق کے بعد ہی درج کیا جائے۔
عدالتی نظام میں بھی اصلاحات کے ذریعے کیسز کو جلد نمٹانا اور انصاف کی فراہمی یقینی بنانا بھی بہت ضروری ہے ۔
کسی بھی توہین مذہب کیس کی ایف آئی آر درج ہونے کے بعد ماتحت عدالت میں ٹرائل شروع کرنے سے پہلے یہ لازمی قرار دیا جائے کہ متعلقہ ہائی کورٹ کا ایک بینچ یا جسٹس اس بات کا تعین کرے کہ
کیا ایف آئی آر میں قانون کی خلاف ورزی کا کوئی معقول اور ٹھوس مقدمہ بنتا ہے؟
کیا الزامات ذاتی نوعیت کے نہیں ہیں؟
ماتحت عدالتوں کو یہ ہدایت دی جائے کہ توہین مذہب کے کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹائیں اور ان کی سماعتوں کو ایک مقررہ وقت (مثلاً 6 ماہ) کے اندر مکمل کرنے کی کوشش کی جائے۔ طویل التواء ملزم اور اس کے خاندان کے لیے سزا سے کم نہیں ہوتا۔
توہین مذہب کے کیسز کے لیے خصوصی تربیت یافتہ ججز پر مشتمل بینچ قائم کیے جائیں جو مذہبی حساسیت، قانون کے اطلاق اور شواہد کی جانچ کے ماہر ہوں۔
ملزم کو عدالتی کارروائی کے دوران اور بریت کے بعد بھی تحفظ فراہم کرنے کا بندوبست ہونا چاہیے ۔
توہین مذہب کے ملزمان کو دوسرے قیدیوں سے الگ اور محفوظ حراست میں رکھا جائے تاکہ جیل کے اندر یا باہر سے تشدد یا ماورائے عدالت قتل کے واقعات کو روکا جا سکے۔
آسیہ بی بی کیس نے ثابت کیا کہ بریت کے بعد بھی ملزم کی جان خطرے میں رہتی ہے۔ ریاست پر یہ قانونی ذمہ داری عائد کی جائے کہ وہ بری ہونے والے افراد اور ان کے وکلاء کو مکمل اور مستقل سکیورٹی کوریج فراہم کرے۔
توہین مذہب کے مقدمات میں فیصلہ سنانے والے ججوں کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے تاکہ وہ خوف یا دباؤ کے بغیر آزادانہ فیصلے کر سکیں۔
ان سخت حفاظتی طریقہ کار کو نافذ کر کے ہی پاکستان اپنے توہین مذہب کے قوانین کے غلط استعمال کو کم کر سکتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر توہین مذہب کے غلط پہ استعمال کو روکنے کے اپنے وعدوں کو پورا کر سکتا ہے۔
اگر ان قوانین میں ضروری ترامیم نہ ہو پائیں تو پھر ان قوانین کے مکمل خاتمے کا دباؤ بڑھے گا۔ اس صورت میں معاشرے میں مزید انارکی پھیلے گی اور توہین کے نام پہ قتل و غارتگری کا سلسلہ بڑھ جائے گا۔ اس لیے ان قوانین میں ماہرین کی رائے کے پیش نظر، تمام پارٹیوں کی مشاورت سے ضروری ترامیم کرنی ہوں گی۔
تحریر محمد ناصر صدیقی
