TM-4 News
لوڈ ہو رہا ہے...
TM-4 NEWS
اسلامی تاریخ لوڈ ہو رہی ہے...

پاکستان کے ریاستی فیصلے اور قومی تشخص، ایک تاریخی غلطی




پاکستان کے ریاستی فیصلے اور قومی تشخص، ایک تاریخی غلطی

پاکستان نے حالیہ دنوں میں ایک اور دہشتگرد کو امریکہ کے حوالے کر کے ایک تاریخی غلطی (بلنڈر) کر دی ہے۔ یہ فیصلہ محض وقتی فائدے اور دباؤ کے تحت کیا گیا، جس سے نہ صرف قومی خودمختاری پر سوال اٹھتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے امیج کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

یہ عمل امریکہ اور دنیا کو دو واضح پیغام دیتا ہے

پاکستان دہشتگردوں کی پناہ گاہ سمجھا جا سکتا ہے
جب بھی کوئی عالمی سطح کا دہشتگرد "برآمد" ہوتا ہے، تو دنیا یہی نتیجہ اخذ کرتی ہے کہ پاکستان کے پاس ایسے عناصر کی موجودگی رہی ہے اور ریاست جب چاہے انہیں سامنے لا سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف پاکستان کا عالمی تشخص مجروح ہوتا ہے بلکہ ملک پر مزید سفارتی اور سیاسی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

پاکستان کو دباؤ میں لا کر کچھ بھی کروایا جا سکتا ہے
یہ فیصلہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان اپنی داخلی پالیسیوں اور قومی مفاد کی بجائے بیرونی دباؤ کے تحت کام کرتا ہے۔ امریکہ سمیت دیگر عالمی قوتوں کو معلوم ہو چکا ہے کہ پاکستان سے اپنی مرضی کے فیصلے کیسے کروائے جا سکتے ہیں، خواہ وہ معاشی دباؤ ہو، سیاسی معاملات ہوں یا سفارتی چالیں۔

یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب پاکستان نے ایسا فیصلہ کیا ہو۔ ماضی میں بھی ہم نے اپنی کمزور پالیسیوں اور وقتی مفادات کے تحت ایسے اقدامات کیے ہیں جنہوں نے ہمیں طویل المدتی نقصان پہنچایا۔ اسامہ بن لادن کی برآمدگی سے لے کر دیگر کئی واقعات تک، ہر بار پاکستان کی ساکھ کو دھچکا لگا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ ریاستی فیصلے کسی جامع اور طویل المدتی پالیسی کے تحت نہیں بلکہ مخصوص وقتی فوائد اور دباؤ کے نتیجے میں کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بار بار انہی غلطیوں کو دہرا رہے ہیں اور سبق سیکھنے کے بجائے اپنی کمزور پالیسیوں کو کامیابی تصور کرتے ہیں۔

ایک ریاست کی شناخت اس کی معیشت، ٹیکنالوجی، تعلیمی ادارے، زرعی ترقی، صنعت اور دیگر مثبت شعبوں سے ہوتی ہے۔ لیکن پاکستان کا عالمی تعارف اس کے برعکس ہو چکا ہے۔ دنیا ہمیں آئی ٹی، ایگری کلچر، میڈیکل ٹورازم، یونیورسٹیز، ٹورازم ایکسپورٹ، کاٹیج انڈسٹری، یا دیگر مثبت پہلوؤں سے جاننے کے بجائے صرف دہشتگردوں کی برآمدگی کے تناظر میں جانتی ہے۔

یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ ہم نے عالمی منڈی میں اپنے مثبت امیج کو خود ہی داغدار کر دیا ہے۔ ہمارے پاس حلال کمائی کے بے شمار مواقع موجود ہیں، مگر ہم اپنی پالیسیاں ایسے بناتے ہیں کہ آخر میں صرف حرام ذرائع پر انحصار باقی رہ جاتا ہے۔

اگر پاکستان کو واقعی ایک مہذب، خودمختار اور ترقی یافتہ ملک بننا ہے تو ہمیں اپنی ریاستی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔
بیرونی دباؤ پر فیصلے کرنے کے بجائے قومی مفاد کو مقدم رکھا جائے۔
ٹیکنالوجی، زراعت، ایکسپورٹس اور انڈسٹری میں ترقی لا کر عالمی معیشت میں مثبت مقام حاصل کیا جائے۔
دہشتگردوں کے بجائے پاکستان کو اس کی مثبت صلاحیتوں سے پہچان ملے۔

یہ سب اسی وقت ممکن ہوگا جب ہم Dirty Games سے باہر نکل کر ایک مہذب اور ترقی یافتہ ملک کی طرح اپنی پالیسیاں مرتب کریں۔ ورنہ، تاریخ ہمیں محض ایک ایسی ریاست کے طور پر یاد رکھے گی جس نے اپنی ساکھ خود اپنے ہاتھوں تباہ کی۔

Post a Comment

Previous Post Next Post