TM-4 News
لوڈ ہو رہا ہے...
TM-4 NEWS
اسلامی تاریخ لوڈ ہو رہی ہے...

انڈیا کی پاکستان مخالف مہم، موجودہ قیادت کی ناکامی اور قومی خودمختاری کا بحران


انڈیا کی پاکستان مخالف مہم، موجودہ قیادت کی ناکامی اور قومی خودمختاری کا بحران

ان دنوں بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف منفی مہم، اشتعال انگیز بیانات، اور کھلی دھمکیاں نہ صرف سوشل میڈیا پر بلکہ بین الاقوامی ٹیلی وژن چینلز پر بھی عام ہو چکی ہیں۔ یہ مہم محض زبانی کلامی نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک منظم سوچ، سفارتی منصوبہ بندی، اور پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی سوچی سمجھی حکمت عملی کارفرما ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں موجودہ حکومت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ ان چیلنجز سے نمٹنے کی بجائے داخلی سیاسی انتقام اور اقتدار کی جنگ میں الجھی ہوئی ہے۔

موجودہ قیادت کی پالیسیوں نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو مفلوج کر دیا ہے۔ عالمی سطح پر ہمارا وقار مجروح ہو چکا ہے اور قریبی ہمسایہ ممالک جیسے افغانستان، ایران اور بنگلہ دیش سے تعلقات نچلی ترین سطح پر آ چکے ہیں۔ ایک ایسا وقت تھا جب عمران خان وزیر اعظم اور شاہ محمود قریشی وزیر خارجہ تھے، تو پاکستان کا بیانیہ دنیا میں سنا جاتا تھا۔ ہر فورم پر بھارت کو منہ توڑ جواب ملتا تھا، اور پاکستان ایک خوددار ریاست کے طور پر پہچانا جاتا تھا۔

آج وہی بھارت، جو کل پاکستان کے جواب سے لرزاں تھا، پاکستان کو دھمکیاں دے رہا ہے اور ہمارے حکمران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ اس صورت حال نے ثابت کر دیا ہے کہ موجودہ قیادت نہ صرف نااہل ہے بلکہ قومی سلامتی جیسے حساس معاملات پر بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے سے قاصر ہے۔

ملک کے اندر بھی حالات دگرگوں ہیں۔ بلوچستان اور خیبر کے قبائلی علاقوں میں بدامنی اور بےچینی کی لہر تیزی سے پھیل رہی ہے، جس کی بنیادی وجہ قیادت کا فقدان، ناقص پالیسی سازی اور عوامی امنگوں کو نظر انداز کرنا ہے۔ ریاستی اداروں کے اندرونی ٹکراؤ، آئین کی مسلسل پامالی، اور سکیورٹی اداروں اور عوام کے درمیان پیدا ہوتا ہوا عدم اعتماد ایک خطرناک صورتحال کی نشاندہی کر رہا ہے۔

یہ سب کچھ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا جا رہا ہے تاکہ ایک مقبول عوامی لیڈر اور اس کی جماعت کو سیاست سے مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔ فارم 47 کی پیداوار جعلی حکومت عوام کے مینڈیٹ کی توہین ہے، جو نہ صرف سیاسی طور پر ناجائز ہے بلکہ قومی وحدت اور سالمیت کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہے۔

اب وقت آ چکا ہے کہ ملک کو موجودہ سیاسی اور عسکری بحران سے نکالا جائے۔ اس کا واحد راستہ شفاف انتخابات، آئین کی بالادستی، اور عوامی مینڈیٹ والی حکومت کا قیام ہے۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے ایک نڈر، غیرت مند اور وژنری لیڈر کی ضرورت ہے، جو نہ صرف ملک کے اندر استحکام لا سکے بلکہ دنیا میں پاکستان کی اصل تصویر بھی پیش کر سکے۔

عمران خان جیسے رہنما آج کی اہم ترین ضرورت بن چکے ہیں، جو ماضی میں ملک کو بحرانوں سے نکال کر عالمی فورمز پر پاکستان کا مقدمہ لڑتے رہے۔ اب بھی اگر عوام کو حقیقی قیادت سے محروم رکھا گیا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔

بقلم:محمداشرف

Post a Comment

Previous Post Next Post