TM-4 News
لوڈ ہو رہا ہے...
TM-4 NEWS
اسلامی تاریخ لوڈ ہو رہی ہے...

جنگ کے طریقے بدل چکے ہیں، گولی اور بندوق کے بجائے ذہنیت کی بنیاد پر جنگیں لڑی جا رہی ہیں


دنیا میں طاقت کے مظاہرے اور قومی بقا کے طریقے وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے آئے ہیں۔ آج کا دور روایتی میدانِ جنگ کا نہیں رہا بلکہ ایک ایسی جنگ کا ہے جو بغیر گولی چلے، بغیر توپ چلے، دشمن کے اہداف حاصل کر رہی ہے۔ ہم ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑے ہیں جہاں صرف سرحدوں کی حفاظت کافی نہیں، بلکہ ذہنوں کی حفاظت، پانی کے تحفظ، وسائل کی منصوبہ بندی اور نظریاتی بقا بھی از حد ضروری ہے۔

آج یہ ماننے میں کوئی قباحت نہیں کہ روایتی جنگوں کے میدان سُنے پڑے ہیں، لیکن ملکوں کی تباہی اور عزائم کی تکمیل اب دوسرے ذرائع سے کی جا رہی ہے۔ ہندوستان کے ساتھ ہماری کشمکش ایک ایسی مثال ہے جہاں وہ فوجی تصادم کے بغیر اپنے اہداف حاصل کر رہا ہے۔ بنگلہ دیش کی علیحدگی اس کا پہلا بڑا ثبوت تھی، جس میں بندوقوں سے زیادہ پروپیگنڈا، سماجی تقسیم اور سفارتی ناکامی نے کردار ادا کیا۔

آج راوی اور ستلج خشک ہو چکے ہیں، چناب، جہلم اور سندھ کے پانی پر بھی ہندوستان نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ آبی وسائل پر کنٹرول ایک نیا ہتھیار ہے جو دشمن استعمال کر رہا ہے، اور ہم محض سفارتی بیانات تک محدود ہیں۔ آبی جنگ کسی سرکاری اعلامیے کے بغیر لڑی جا رہی ہے اور اس کے اثرات ہماری زمین، زراعت اور معیشت پر نمایاں ہو چکے ہیں۔

سیاچن گلیشیئر پر ہندوستانی قبضہ ہو چکا ہے، کارگل میں ہمارے ہی مجاہدین کی قربانیاں ہمیں ہمارے ہی نظام نے نظرانداز کر دیں۔ کشمیر، جو پاکستان کی شہ رگ کہلاتا تھا، اب ہندوستانی آئین کا باقاعدہ حصہ بن چکا ہے۔ اور ہم صرف اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی گردان دہرا رہے ہیں، جنہیں دنیا بھلا چکی ہے۔

ہم نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو محض تقاریر، پریڈز اور سوشل میڈیا کلپس تک محدود کر دیا ہے۔ ہتھیاروں کی نمائش اب ٹک ٹاک میٹریل بنتی جا رہی ہے جبکہ دشمن چپ چاپ ہماری زمین، ہمارے وسائل، اور ہمارے خوابوں پر قبضہ کرتا جا رہا ہے۔

ہندوستان آہستہ آہستہ ہمارے تعلیمی نصاب، ثقافتی یلغار، میڈیا پراپیگنڈا، اور نظریاتی انتشار کے ذریعے ہمیں اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ ہمارے نوجوان ٹیکنالوجی میں پیچھے، معیشت میں بے روزگار، اور نظریاتی طور پر الجھاؤ کا شکار ہیں۔ ہم دشمن کے ٹینکوں کے انتظار میں بیٹھے ہیں، لیکن جنگ اب ذہنوں پر مسلط ہو چکی ہے — اور ہم ہار رہے ہیں۔
جب تک ملک میں سامراجی طرزِ حکمرانی قائم رہے گا، جہاں چند مخصوص طبقات اقتدار کے مراکز پر قابض ہوں اور اپنی مرضی سے فیصلے کریں، تب تک عوام کی حقیقی فلاح ممکن نہیں۔ کرپٹ، نااہل اور خود غرض قیادت نے ہمیشہ ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دی ہے۔ قومی اثاثے، ادارے، اور وسائل کو گروی رکھ کر ذاتی اقتدار کو دوام دینا ملک کے مستقبل سے کھلواڑ ہے۔ اس کا حل ایک ایسی عوامی حمایت یافتہ قیادت ہے جو جواب دہ ہو، شفاف ہو، اور صرف قومی مفاد کو مقدم سمجھے۔ جب تک عوام خود باشعور ہو کر اپنے فیصلے خود نہیں کریں گے، اور نظام کو سامراجی باقیات سے پاک نہیں کریں گے، دشمن کے ناپاک عزائم اسی طرح پورے ہوتے رہیں گے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post