بین الاقوامی تعلقات میں بعض فیصلے وقتی سیاست سے بڑھ کر دور رس اثرات کے حامل ہوتے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے کرتارپور راہداری کا افتتاح ایسا ہی ایک تاریخی اور انقلابی فیصلہ تھا جس نے نہ صرف سکھ برادری کے دل جیت لیے بلکہ خطے کی سفارتی صورت حال میں بھی ایک نیا رخ متعین کیا۔ یہ قدم وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں ممکن ہوا، جنہوں نے نہ صرف مذہبی رواداری بلکہ دانشمندانہ اسٹریٹیجی کی اعلیٰ مثال قائم کی۔
2018 میں وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد عمران خان نے واضح کیا کہ پاکستان تمام مذاہب کے لوگوں کے لیے ایک محفوظ اور احترام پر مبنی ملک بنے گا۔ کرتارپور راہداری کا تصور، جس پر برسوں سے بات چیت ہوتی رہی، عمران خان کی ذاتی دلچسپی اور سیاسی عزم کی بدولت حقیقت کا روپ دھار سکا۔ نومبر 2019 میں ان کی قیادت میں کرتارپور راہداری کا افتتاح ایک ایسے وقت میں ہوا جب بھارت میں اقلیتیں، خصوصاً سکھ برادری، مودی حکومت کی پالیسیوں سے نالاں تھیں۔
عمران خان نے راہداری کے افتتاح کے موقع پر کہا تھا
“جب آپ کسی کو خوشی دیتے ہیں، تو اللہ آپ سے خوش ہوتا ہے۔ یہ راہداری محبت اور امن کا راستہ ہے۔”
یہ صرف الفاظ نہیں، بلکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی سمت کا اعلان تھا۔
کرتارپور راہداری کے قیام نے دنیا بھر کی سکھ برادری کو حیران اور خوش کر دیا۔ خاص طور پر بھارت کے سکھوں نے اس اقدام کو دل سے سراہا۔ پاکستان نے بغیر کسی سیاسی فائدے کی لالچ کے ایک مذہبی خدمت انجام دی، جو دراصل نرم قوت (Soft Power) کا ایک مؤثر استعمال تھا۔
عمران خان کے اس عمل نے بھارت کے اندر بسنے والے سکھوں میں ایک نیا شعور پیدا کیا کہ پاکستان ان کے مقدسات کا محافظ بن سکتا ہے، جبکہ بھارت میں انہیں اپنے ہی حقوق کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ اب ایک بڑی سکھ آبادی مودی حکومت کی پاکستان دشمن پالیسیوں سے اتفاق نہیں کرتی، اور یہ حقیقت خود بھارتی حکومت کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
بھارت کی موجودہ حکومت، خاص طور پر نریندر مودی، ہمیشہ اقلیتوں کے لیے تنگ نظری کا مظاہرہ کرتی رہی ہے۔ سکھ برادری پہلے ہی 1984 کے سکھ مخالف فسادات اور خالصتان تحریک کے دوران ریاستی جبر کا نشانہ بن چکی تھی۔ ایسے میں پاکستان نے جب کرتارپور راہداری کھول کر دوستی کا ہاتھ بڑھایا، تو سکھوں کی ہمدردیاں بھی اس طرف مائل ہو گئیں۔
مودی سرکار جانتی ہے کہ اگر آئندہ کبھی پاک بھارت جنگی صورتِ حال پیدا ہو، تو سکھوں کی ایک بڑی تعداد اب پاکستان کے خلاف لڑنے پر آمادہ نہیں ہو گی، کیونکہ ان کے دل میں پاکستان کے لیے عزت اور عقیدت پیدا ہو چکی ہے۔
کرتارپور راہداری اب پاکستان کے پاس ایک قیمتی سفارتی اور اسٹریٹیجک ہتھیار ہے۔ اس کے ذریعے پاکستان نے نہ صرف دنیا کو بین المذاہب ہم آہنگی کا عملی پیغام دیا بلکہ بھارت کے اندرونی تضادات کو بھی اجاگر کیا۔ سکھ یاتری ہر سال پاکستان آ کر امن، عزت اور احترام کا تجربہ کرتے ہیں جو انہیں بھارت میں شاید ہی نصیب ہو۔
کرتارپور راہداری کا قیام پاکستان کی سکھ ڈپلومیسی کا وہ عظیم الشان قدم ہے جس کی گونج کئی دہائیوں تک سنی جاتی رہے گی۔ اس کے پیچھے عمران خان کا وژن، جرات مندی، اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کا جذبہ کارفرما تھا۔ بلاشبہ، یہ اقدام پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک سنگ میل ہے، اور عمران خان کو اس کے اصل معمار کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
محمداشرف