غزہ میں اسرائیلی بمباری اور طویل محاصرے کے نتیجے میں ایک ہولناک انسانی بحران نے جنم لیا ہے۔ ہزاروں بے گناہ شہری، جن میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں، اس ظلم کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس دل دہلا دینے والی صورتحال میں جب بیشتر عالمی طاقتیں خاموش تماشائی بنی رہیں، چین وہ واحد بڑی طاقت بن کر سامنے آیا جس نے نہ صرف ہمدردی کا اظہار کیا بلکہ فوری اور مؤثر انسانی امداد فراہم کر کے دنیا کو ایک مثبت پیغام دیا۔
چینی حکومت نے غزہ کے لیے 60,000 خوراکی پیکجز روانہ کیے، جو اردن کے ذریعے زمینی راستے سے بھیجے گئے۔ یہ پیکجز ورلڈ فوڈ پروگرام اور فلسطینی ہلال احمر کے تعاون سے ان علاقوں میں تقسیم کیے جا رہے ہیں جہاں خوراک کی شدید قلت ہے۔ ہر پیکج میں روزمرہ کی ضروری اشیاء شامل تھیں جو ایک خاندان کی فوری ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کافی تھیں۔ یہ امداد چھ مراحل میں تقسیم کی گئی تاکہ منظم طریقے سے غزہ کے مختلف علاقوں تک پہنچائی جا سکے۔
خوراکی امداد کے ساتھ ساتھ چین نے طبی سامان، ادویات، خیمے، کمبل، آٹا اور کپڑے بھی مہیا کیے، جو رفح بارڈر کے ذریعے غزہ کے متاثرہ علاقوں میں بھیجے گئے۔ یہ وہ بنیادی ضروریات تھیں جن کی فوری فراہمی نہایت اہم تھی۔ اس کے علاوہ چین نے اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے فلسطینی مہاجرین (UNRWA) کو تین ملین امریکی ڈالر کی نقد امداد بھی فراہم کی تاکہ فوری ریلیف سرگرمیوں کو مؤثر بنایا جا سکے۔
چینی صدر شی جن پنگ نے نہ صرف امداد کا اعلان کیا بلکہ دنیا کو جھنجھوڑنے والا ایک پیغام بھی دیا۔ انہوں نے غزہ میں جاری انسانی المیے کے خاتمے کے لیے عالمی امن کانفرنس بلانے کا مطالبہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ فلسطین کو انصاف اور بین الاقوامی اصولوں کی روشنی میں حل کیا جائے۔ انہوں نے غزہ کے عوام کے لیے 500 ملین یوآن (تقریباً 69 ملین امریکی ڈالر) کی اضافی امداد کا اعلان بھی کیا جو جنگ کے بعد کی تعمیر نو اور بحالی میں مددگار ثابت ہو گی۔
اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے فو کانگ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فوراً غزہ پر حملے بند کرے اور بین الاقوامی برادری کو متحرک ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔ چین کا یہ واضح مؤقف دنیا کے ان تمام ممالک کے لیے ایک آئینہ ہے جو محض الفاظ تک محدود ہیں۔
چین کی یہ کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ عالمی سیاست میں اگر نیت صاف ہو تو انسانیت کو بچایا جا سکتا ہے۔ جب ایک غیر مسلم اور مشرق بعید کا ملک مظلوم فلسطینی عوام کی عملی مدد کر سکتا ہے تو مسلم ممالک کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وہ کب اپنی نیند سے بیدار ہوں گے؟ چین کا یہ اقدام صرف امداد نہیں بلکہ ایک پیغام ہے انسانیت سب سے پہلے۔
