دنیا کے مختلف خطوں میں جہاں بھی مسلمان بستے ہیں، وہ اکثر ظلم، جبر اور ناانصافی کا شکار نظر آتے ہیں، لیکن غزہ اس فہرست میں سب سے نمایاں مقام رکھتا ہے۔ غزہ میں جاری مسلمانوں کی نسل کشی محض ایک انسانی بحران نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کے اجتماعی ضمیر پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ معصوم بچے، عورتیں، اور بوڑھے کفریہ طاقتوں کے مظالم کا شکار ہو کر روزانہ شہید ہو رہے ہیں۔ ہسپتال تباہ کر دیے گئے، اسکول ملبے کا ڈھیر بن چکے، اور گھروں کو کھنڈر میں بدل دیا گیا ہے۔ خوراک کی قلت نے انسانیت کا جنازہ نکال دیا ہے، اور غزہ کے مسلمان بھوک سے بلک بلک کر جان دے رہے ہیں۔
ان حالات میں جب غزہ کی فضائیں شہداء کے خون سے سرخ ہیں، اور ان کی چیخیں آسمان تک پہنچ رہی ہیں، مسلم دنیا کی قیادت خواب غفلت میں ڈوبی ہوئی ہے۔ عرب دنیا کے بادشاہ اور سربراہ ایک طرف امریکی صدر ٹرمپ جیسے اسلام دشمن حکمرانوں کا ننگے سر بچیوں سے رقص کروا کر استقبال کرتے ہیں، دوسری طرف انہیں اربوں ڈالرز کے تحفے پیش کر کے اپنی وفاداری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف غزہ کے مظلوموں کی توہین ہے بلکہ اسلامی اخوت اور امت کے اتحاد کے تصور کو کھوکھلا ثابت کرتا ہے۔
امت مسلمہ کی بے حسی اس وقت اور زیادہ ننگی ہو جاتی ہے جب کفریہ طاقتوں کے آپس میں اتحاد کی مثالیں ہمارے سامنے آتی ہیں۔ اگر وہ ایک دوسرے کے مفاد کے لیے متحد ہو سکتے ہیں، تو مسلمان کیوں نہیں؟ کیا ہمارا کلمہ ایک نہیں؟ کیا ہمارا رب، نبی اور قبلہ ایک نہیں؟ اگر ہاں، تو ہم ٹکڑوں میں کیوں بٹے ہیں؟
اس کی ایک واضح مثال پاکستان اور بھارت کے تنازعے میں دیکھی جا سکتی ہے۔ جب بھارت نے پاکستان پر حملے کیے، تو امریکی صدر ٹرمپ نے نیوٹرل رہنے کا اعلان کیا، لیکن جب پاکستان نے اپنی خودمختاری کا دفاع کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی، تو یہی ٹرمپ بھارت کے تحفظ کے لیے میدان میں کود پڑا۔ یہ دوہرا معیار اس بات کا ثبوت ہے کہ کفریہ طاقتیں صرف اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے یکجا ہوتی ہیں، اور مسلمانوں کو کمزور کرنے میں ایک دوسرے کے مددگار بنتی ہیں۔
یہ وقت ہے کہ امت مسلمہ اپنے اندر اتحاد پیدا کرے، قیادت کو جھنجھوڑے، اور مظلوموں کا ساتھ دے۔ غزہ میں بہتا ہوا خون ہم سب سے سوال کر رہا ہے، اور اگر ہم نے اس کا جواب نہ دیا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ مسلم حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی اور امت کی بے حسی، دونوں بہت بڑا جرم ہیں، جس کی سزا شاید ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں بھگتنی پڑے۔
غزہ کا مسئلہ محض ایک انسانی المیہ نہیں بلکہ امت مسلمہ کے اتحاد، قیادت، اور کردار کا امتحان ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم جاگ جائیں، ورنہ تاریخ ہمیں ان ظالموں کے ساتھ کھڑا پائے گی جنہوں نے معصوموں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے۔
