چٹہ بٹہ، مانسہرہ: رپورٹ (میاں محمد ریاض جمالی)
چٹہ بٹہ مانسہرہ میں اچانک پیش آنے والا ایک افسوسناک واقعہ ہر سننے والے کو افسردہ کر گیا۔ گورنمنٹ ہائی اسکول چٹہ بٹہ کے سابقہ چوکیدار محمد اسماعیل کے چھوٹے بھائی تنویر جو کہ رنگ سازی کے شعبے سے وابستہ اور محنت کش شخص تھے – آج صبح ایک جنازے کی تیاری میں مسجد سے چارپائی لانے کے لیے گئے۔ وہ یہ نیک کام خلوصِ نیت سے کر رہے تھے، کہ واپسی کے دوران اچانک انہیں دل کا دورہ پڑا۔ بدقسمتی سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے اور خالق حقیقی سے جا ملے۔
تنویر نہ صرف ایک محنتی رنگ ساز تھے بلکہ ان کی زندگی کا ہر لمحہ خدمت خلق، حلال روزی اور خوش اخلاقی کا نمونہ تھا۔ ان کے قریبی رشتہ داروں، محلے داروں اور دوست احباب کے مطابق وہ ہمیشہ دوسروں کی مدد کے لیے پیش پیش رہتے تھے۔ علاقے میں جب بھی کسی کو رنگ و روغن یا دیگر چھوٹے موٹے کاموں کی ضرورت ہوتی، تنویر اپنی ذمہ داری سمجھ کر نہایت خلوص سے وہ کام کرتے۔ ان کی یہی خوبیاں انہیں ہر دلعزیز بناتی تھیں۔
واقعے کی خبر پھیلتے ہی پورا علاقہ غم میں ڈوب گیا۔ اہلِ محلہ، بزرگ حضرات، نوجوان اور بچے سب ان کے اچانک انتقال پر دکھ اور صدمے میں مبتلا ہو گئے۔ ان کی وفات سے ایک محنتی، نیک سیرت اور مخلص انسان ہم سے جدا ہو گیا، جو علاقے کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔
تنویر کی نمازِ جنازہ آج شام 4 بجے چٹہ بٹہ میں ادا کی جائے گی۔ اہل علاقہ، رشتہ داروں اور دوست احباب سے شرکت کی اپیل کی گئی ہے تاکہ مرحوم کو دعاؤں میں یاد رکھا جا سکے۔
