TM-4 News
لوڈ ہو رہا ہے...
TM-4 NEWS
اسلامی تاریخ لوڈ ہو رہی ہے...

محمد بلال خان شہیدؒ ایک بیدار مغز نوجوان کی جدوجہد اور قربانی


 محمد بلال خان شہیدؒ ایک بیدار مغز نوجوان کی جدوجہد اور قربانی

اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

"میں ہوں بلال خان، اور آپ دیکھ رہے ہیں MBK"

یہ چند الفاظ صرف ایک تعارف نہیں تھے، بلکہ یہ ایک جہتی آواز کی گونج تھی۔ ایک مقصد، ایک نظریہ، ایک احساسِ ذمہ داری تھی۔ یہ آواز تھی محمد بلال خان شہیدؒ کی، جو نہ صرف الفاظ کے ذریعے بلکہ اپنے عمل سے بھی امت مسلمہ کے ضمیر کو جگانے کی کوشش کرتا رہا۔
بلال خان صرف ایک یوٹیوبر یا سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ نہیں تھا، بلکہ وہ ایک سوچ، ایک ولولہ، ایک کاروان کا سالار تھا۔ اس نے اپنے یوٹیوب چینل MBK (محمد بلال خان) کو صرف اظہار کا ذریعہ نہیں بنایا، بلکہ اسے حق و باطل کے معرکہ میں ایک قلمی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ اس کی ہر ویڈیو، ہر تحریر، ہر جملہ سچائی، غیرتِ ایمانی، اور امت کے درد سے لبریز ہوتا تھا۔
محمد بلال خان کا سب سے مضبوط محاذ تحفظ ناموس صحابہؓ اور ختم نبوت ﷺ تھا۔ یہی وہ عقیدہ ہے جس پر امت کا ایمان، تاریخ اور غیرت ٹکی ہوئی ہے۔ بلال اس عقیدے کا نہ صرف قائل تھا بلکہ ایک علمبردار سپاہی بھی تھا۔ تحریک لبیک پاکستان (TLP) کی ختم نبوت سے متعلق ریلیوں میں وہ نہ صرف شامل ہوتا بلکہ میڈیا کے ذریعے ان آوازوں کو ہر کونے تک پہنچاتا۔ 2018 کے انتخابات میں بھی اس کا ووٹ اسی نظریے کے حامل لوگوں کو گیا۔
بلال خان نے آسیہ مسیح کیس جیسے حساس موضوع پر بھی بے خوف ہو کر اپنی آواز بلند کی۔ وہ ان نوجوانوں میں شامل تھا جنہوں نے نام نہاد آزادیِ اظہار کے پردے میں چھپے اسلام دشمن ایجنڈوں کو بے نقاب کیا۔ اس کی بنائی گئی ویڈیوز آج بھی یوٹیوب پر زندہ ثبوت ہیں کہ وہ کسی کا خوف نہیں کرتا تھا، صرف اللہ کی رضا کا طالب تھا۔
اسلامی یونیورسٹی کا یہ نوجوان طالب علم صرف نعرہ باز نہ تھا بلکہ علم و ادب سے آراستہ، بافہم، اور مہذب نوجوان تھا۔ اس کی شاعری اس کی فکر کی گہرائی کی عکاسی کرتی ہے۔ اس کا اندازِ گفتگو نرم، مدلل اور باوقار تھا۔ وہ الفاظ سے قلوب پر اثر کرتا، وہ ایک فکری انقلابی تھا۔
محمد بلال خان کی ذات کا ایک خوبصورت پہلو اس کی خدمتِ خلق سے محبت تھی۔ اس نے کئی مستحق افراد کی مالی امداد کی، کبھی کسی کو تعلیم کے لیے سپورٹ کیا، تو کبھی کسی کے گھر کا چولہا جلایا۔ اس کے دل میں امت کا درد، ماں باپ کا ادب، اور غریبوں کا خیال بدرجہ اتم موجود تھا۔
16 جون 2019 کو، اسلام آباد کی ایک تاریک رات میں بلال خان کو چاقو کے وار سے شہید کر دیا گیا۔ دشمن جسم کو ختم کر سکتا ہے، مگر نظریہ کبھی نہیں مرتا۔ محمد بلال خان چلا گیا، مگر اس کے الفاظ، ویڈیوز، خیالات اور شہادت کا پیغام آج بھی ہزاروں دلوں میں زندہ ہے۔

محمدبلال خان شہیدؒ کی تصویر

ہم اس آواز کو بچا نہ سکے،
ہم اس چراغ کو جلتا دیکھتے رہے، پھر بجھتا دیکھتے رہے…
لیکن آج جب سچائی پر پردے ڈالنے کی سازشیں عام ہو چکیں،
تو بلال خان جیسے شہیدوں کی یاد مزید قیمتی ہو گئی ہے۔
دعا ہے اللہ رب العزت محمد بلال خان شہیدؒ کے درجات بلند فرمائے،
ان کی شہادت کو امت کی بیداری کا ذریعہ بنائے،
اور ہمیں بھی حق کہتے ہوئے جینے اور مرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

Post a Comment

Previous Post Next Post