TM-4 News
لوڈ ہو رہا ہے...
TM-4 NEWS
اسلامی تاریخ لوڈ ہو رہی ہے...

ایک ستارہ جس نے دین، وفا اور فلاح کے آسمان پر کہکشاں کی صورت چمکنا سیکھایا

 

اک ستارہ تھا میں، کہکشاں ہوگیا۔۔۔!

کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو زندگی کی چکاچوند میں نظر نہیں آتے، نہ ان کی شہرت کسی اخبار کی سرخی بنتی ہے، نہ وہ بڑے جلسوں کے مقرر کہلاتے ہیں۔ مگر وہ زمین پر ایسے چراغ ہوتے ہیں جو اپنی روشنی سے دلوں کو منور کرتے ہیں، ذہنوں کو جھنجھوڑتے ہیں، اور اعمال سے امت کی تقدیر سنوارتے ہیں۔ ایسے ہی ایک سادہ، باوقار اور بااثر چراغ کا نام حافظ شمس الدین مرحوم ہے، جنہیں آج ہم یاد کر رہے ہیں۔

دینی وابستگی اور جذبۂ خدمت

حافظ شمس الدین مرحوم کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے دین کو فقط عبادت خانہ کی چار دیواری میں قید نہیں رکھا، بلکہ اسے زندگی کا مرکز و محور بنایا۔ آپ بچپن ہی سے دینی تعلیمات کے گہرے اثر میں رہے۔ قرآن کریم سے محبت، سنتِ نبویؐ سے وابستگی، اور جماعت اسلامی تشخص کے ساتھ اہل سنت والجماعت پاکستان کے پلیٹ فارم سے وابستہ رہ کر اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔

حافظ صاحب نے نہ صرف ذاتی طور پر نیکی اور اصلاح کا راستہ اپنایا، بلکہ اپنے علاقے کے نوجوانوں، بڑوں اور بزرگوں کی اصلاح کے لیے سرگرم کردار ادا کیا۔ ان کی محفلیں علم و فہم سے لبریز ہوتیں، گفتگو میں نرمی، مگر بات میں وزن ہوتا۔ دلوں کو جیتنے کا سلیقہ، اور نظریاتی وابستگی کا کامل اظہار ان کی شخصیت کا خاصہ تھا۔

اہل سنت والجماعت سے نظریاتی وفا

ان کی پوری عملی زندگی "وفاداری" اور "استقامت" کی روشن مثال تھی۔ حافظ صاحب نے اہل سنت والجماعت پاکستان کے ساتھ اپنے عہد کو کبھی توڑا نہیں۔ جب جماعت خوشحالی میں تھی، وہ صف اول میں تھے۔ اور جب جماعت پابندیوں، ظلم، اور سیاسی دباؤ کا شکار ہوئی، تب بھی وہ سب سے آگے تھے۔ آپ نے تنظیمی ذمہ داریاں بطور "یونٹ علیؓ معاویہؓ" کے سربراہ سنبھالیں، اور مقامی سطح پر جماعت کی جڑوں کو مضبوط بنانے کے لیے تن، من، دھن لگا دیا۔

فہم و فراست کا عملی مظہر  حسنین کریمینؓ تنظیم

جنرل مشرف کے دورِ حکومت میں جب مذہبی جماعتوں پر پابندیوں کا سلسلہ زوروں پر تھا، جماعت اہل سنت کو بھی ان آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بہت سے لوگ کنارہ کشی اختیار کر گئے، کئی چپ ہو گئے، مگر حافظ شمس الدین نے نہ جھکنے کا فیصلہ کیا، نہ رُکنے کا۔ انہوں نے ایک باہمت اور بافہم فیصلہ کرتے ہوئے ایک فلاحی تنظیم "حسنین کریمینؓ" کی بنیاد رکھی۔

اس تنظیم کی بنیاد صرف ظاہری فلاحی کام نہیں تھے، بلکہ یہ جماعتی فکر، اتحادِ امت، اور دینی بیداری کی تحریک تھی۔ مقامی سطح پر دینی مدارس، رفاہی کام، غرباء کی امداد، رمضان المبارک میں راشن کی تقسیم، اور نوجوانوں کی تربیت جیسے اہم کام اسی تنظیم کے ذریعے انجام دیے گئے۔

یہی نہیں، بلکہ حافظ صاحب نے جماعتی نظریات کو محفوظ رکھتے ہوئے ان کو نئی نسل میں منتقل کرنے کا بندوبست کیا۔ حسنین کریمینؓ دراصل جماعتی فکر کا سایہ دار درخت بن گیا، جس کی جڑیں حافظ صاحب کے اخلاص سے جمی ہوئی تھیں۔

رفقاء سفر  محمد طیب کا کردار

ہر بڑے مشن کے پیچھے کچھ خاموش مجاہد ہوتے ہیں، جو نام کے محتاج نہیں ہوتے مگر کام میں پہچان رکھتے ہیں۔ حافظ صاحب کے ساتھ اس مشن میں  نمایاں شخصیات شریکِ سفر رہیں  محمد طیب صاحب۔

محمدطیب صاحب نے نہ صرف تنظیم کی بنیاد میں ہاتھ بٹایا بلکہ اسے مستحکم، منظم اور مفید ادارہ بنانے کے لیے دن رات محنت کی۔ محمد طیب صاحب کی ذہانت، نظم و نسق کی صلاحیت، اور خلوص پر مبنی قیادت نے تنظیمی عمل کو مؤثر بنایا۔ 

یہ دونوں شخصیات آج بھی علاقے میں حافظ صاحب کے مشن کو یاد دلاتی ہیں، ان کے کام کو آگے بڑھانے کا عزم رکھتی ہیں، اور ان کے چھوڑے ہوئے نقوش پر قدم رکھے ہوئے ہیں۔

اخلاقی صفات اور ذاتی کردار

حافظ شمس الدین مرحوم کی زندگی میں جو چیز سب سے نمایاں تھی، وہ ان کا "اخلاص" تھا۔ وہ جو بھی کرتے، صرف اللہ کے لیے کرتے۔ شہرت، واہ واہ، یا عہدوں سے انہیں دلچسپی نہ تھی۔ وہ خاموشی سے کام کرتے اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیتے۔

سادگی ان کی پہچان تھی، نرمی ان کا انداز، اور خلوص ان کی طاقت۔ وہ کسی سے نفرت نہیں رکھتے تھے، مگر باطل سے شدید نفرت رکھتے تھے۔ وہ اختلاف کو دشمنی میں نہیں بدلتے تھے بلکہ علم اور دلیل سے بات کرتے تھے۔

"اک ستارہ تھا میں، کہکشاں ہو گیا۔۔۔" یہ محض ایک ادبی پیرایہ نہیں، بلکہ حافظ شمس الدین مرحوم کی زندگی کا سچا عکس ہے۔

آج ہم حافظ شمس الدین مرحوم کو صرف یاد نہیں کر رہے، بلکہ ان سے وابستہ ایک نظریہ، ایک فکر، اور ایک مشن کو زندہ رکھنے کا عہد بھی کر رہے ہیں۔ ان کی زندگی ہمارے لیے ایک مکمل نصاب ہے — جس میں دینی بصیرت، تنظیمی وفا، اور فلاحی جذبہ سب کچھ موجود ہے۔

ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے، اور ان کے مشن کو زندہ رکھنے کے لیے ہم سب کو اخلاص، استقامت، اور قربانی کا جذبہ عطا فرمائے۔

آمین ثم آمین

 تحریر: محمد عمر فاروقی

تاریخِ وفات: 16 جون 2013
مقام: بالاکوٹ، گاؤں کھولیاں


Post a Comment

Previous Post Next Post