راولپنڈی کی اڈیالہ جیل ایک بار پھر سیاسی گرما گرمی کا مرکز بن گئی، جب پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکنان اور مرکزی راہنما سابق وزیرِاعظم عمران خان سے ان کی بہنوں کی ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر جیل کے باہر جمع ہو گئے۔ حالات اس وقت کشیدہ ہو گئے جب کارکنان نے پُرامن احتجاج شروع کیا، لیکن پولیس نے طاقت کے استعمال سے انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے سینئر راہنما عمر ایوب، عامر ڈوگر اور دیگر کارکنوں پر پولیس نے لاٹھیاں برسائیں اور بدسلوکی کی۔ اس دوران کئی کارکنوں کو حراست میں لینے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ پرامن مظاہرین پر تشدد کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، جس پر عوامی اور سیاسی حلقوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ یہ تشدد اس بات کی علامت ہے کہ موجودہ حالات میں سیاسی اختلاف رائے کو برداشت کرنے کا ماحول نہایت محدود ہوتا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی قیادت نے اس تشدد کی شدید مذمت کی اور اسے جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا۔ عمر ایوب نے بعد ازاں ایک بیان میں کہا کہ “ہم کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں، بلکہ انصاف، آئین اور عمران خان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے یہاں آئے تھے۔ لاٹھیاں ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔”
شدید مزاحمت اور عوامی دباؤ کے بعد بالآخر انتظامیہ کو پسپائی اختیار کرنی پڑی اور عمران خان کی بہنوں کو ان سے ملاقات کی اجازت دے دی گئی۔ ملاقات کے بعد عمران خان کی بہن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عمران خان بالکل خیریت سے ہیں اور ان کا حوصلہ بلند ہے۔
پارٹی پالیسی پر اہم فیصلے سامنے آ گے، اڈیالہ جیل سے بڑی خبر
یہ ملاقات جہاں خان خاندان کے لیے جذباتی طور پر بہت اہم تھی، وہیں سیاسی کارکنوں کے لیے ایک علامتی کامیابی بھی سمجھی جا رہی ہے۔ یہ واقعہ اس امر کی گواہی ہے کہ جب عوامی قوت میدان میں آتی ہے، تو بند دروازے بھی کھلنے لگتے ہیں۔
